جنوبی کوریا میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ

May 09, 2017 06:42 PM IST | Updated on: May 09, 2017 06:42 PM IST

سیول۔  بدعنوانی کے الزامات کےسلسلے میں سابق صدر پارک گون ہےکو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جنوبی کوریا میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی آف کوریا کے امیدوار اور اعتدال پسند نظریے کے مون جے ان کو اعتدال پسند نظریے کے آن چل-سو سے سخت مقابلہ ملنے کا امکان ہے۔ مسٹر مون جے ان شمالی کوریا کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے حق میں ہیں جبکہ سابق صدر پارک گون ہے شمالی کوریا کے ساتھ تمام تعلقات کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ 64 سال کے مون اس سے پہلے 2012 میں بھی صدارتی انتخابات لڑچکے ہیں۔ لیکن اس وقت انہیں پارک گون ہے سے نزدیکی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مون جے ان نے انتخابی مہم کے آخری دن واضح اکثریت کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ پارک گون ہےکے خاتمے اور مواخذے سے ملک میں جو تقسیم پیدا ہوئی ہے، ان کے صدر بننے سے یہ تقسیم مٹ سکتی ہے۔

ادھر انتخابات میں فیصلہ کن کردار اداکرنےوالی ریاستوں میں انتخابی مہم کرتے ہوئے آن چل-سو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ انتخابات میں فاتح رہیں گے۔ پیشے سے ڈاکٹر آن چل-سو بعد میں سافٹ ویئر کاروباری بن گئے تھے۔ انتخابی میدان میں اترے امیدواروں نے ملک کی کمزور ہوتی معیشت کو بہتر بنانے اور نوجوانوں میں بے روزگاری میں کمی دور کرنے کے وعدوں کے ساتھ عوام کے درمیان جا جاکر ووٹ مانگے۔

جنوبی کوریا میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ

تصویر: رائٹرز

اس دوران بدھ کو جاری ایک اوپینین پول میں مون کو 38 فیصد اور آن چل-سو کو 20 فیصد ووٹ ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ مون ترقی کرنے میں ناکام رہنے کے لئے گزشتہ دو حکومتوں پر تنقید کرتے آ رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات میں کل 13 امیدوار میدان میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری نتائج جاری کرنے کے بعد صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار کو بدھ کو حلف دلائے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز