ممبئی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا 27 سمینار جاری ، 400 سے زائد علماء اور اسکالرس کی شرکت

Nov 26, 2017 09:00 PM IST | Updated on: Nov 26, 2017 09:00 PM IST

ممبئی : عروس البلاد ممبئی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 27واں سمینار شروع ہوگیا ہے،جو 25 تا 27 نومبر جاری رہے گا ۔ اس میں ملک وبیرون ملک کے علماءمتعدد جدید مسائل پر تحقیق کریں گے ۔سمینار کے افتتاحی سیشن میں ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے چار سو سے زائد علماءواسکالر س نے شرکت کی۔ افتتاحی سیشن میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے کہاکہ ان ساری کوششوں کا مقصد افراد سازی اور رجال کار کی تیاری ہے ،اسی مقصد کے تحت خود ان سمیناروں میں بزرگ اور کہنہ مشق اساتذہ کے دوش بدوش جوان اور نوجوان اساتذہ وارباب افتاءکو بھی مدعو کیا جاتاہے ۔

اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر اور اکیڈمی کے سرپرست مولانا رابع حسنی ندوی نے کہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسا ادارہ عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے ، نئے مسائل کی تحقیق اور اجتماعی اجتہادکی حیثیت سے اس ادارہ کو خصوصی امیتاز حاصل ہے اور جولوگ یہ خدمات انجام دے ہیں وہ قابل صدمبارکباد ہیں ، انہوں نے کہاکہ دین کی حفاظت کرنے کا اللہ تعالی نے علما ءکو حکم دیا ہے اور اس کیلئے جدوجہد کرنا ،عصری مسائل کو جدید اسلوب میں پیش کرنا اہم فریضہ ہے اور فقہ اکیڈمی انتہاءخوش اسلوبی کے ساتھ یہ کام کررہی ہے ۔

ممبئی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا 27 سمینار جاری ، 400 سے زائد علماء اور اسکالرس کی شرکت

ترکی کے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر عمر فاروق نے کہاکہ فقہ کی تدوین اور اسلامی علوم و فنون کی اشاعت میں ہندوستانی علما کی خدمات ناقابل فراموش ہے، دیوبند نے علوم و فنون کے فروغ میں نمایاں کردار انجام دیا ہے اس کے علاوہ علامہ اقبال اور علامہ شبلی نعمانی سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔سعودی عرب کے ڈاکٹر عامر بہجت نے اجتہاد اور جدید مسائل کی تحقیق کو بیحد ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ عصر حاضر میں یہ انتہائی اہم علمی کام ہے اور ہندوستان جیسے ملک میں اس ادارہ کا قیام قابل فخر ہے ۔

دوسرے دن بزنس سیشن کا انعقاد کیا گیا ، جس میں ارباب افتا اور اہل علم عصری اداروں سے متفق شرعی مسائل پر بحث و مباحثہ کیا۔ اس موضوع کے تحت کل 19 سوال تھے جو مختلف مسئلے کی حیثیت سے تھا اور ہر ایک پر مفتیان کرام نے تفصیلی بحث کی۔رواں سیشن کی صدارت کا فریضہ مولانا سعید کاکا عمری نے انجام دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عصری تعلیم بیحد ضروری ہیں اور مسلمان اس پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔ تاہم بنیادی دینی تعلیم ضروری حاصل کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز