اورنگ آباد میں تین سو سالہ قدیم بابا شاہ مسافر لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں

اورنگ آباد۔ اورنگ آباد کے تاریخی شاہکار پن چکی میں حضرت بابا شاہ مسافر کے زمانے کی تقریباً تین سو سالہ قدیم لائبریری موجود ہے ۔

Oct 14, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Oct 14, 2017 07:00 PM IST

اورنگ آباد۔ اورنگ آباد کے تاریخی شاہکار پن چکی میں حضرت بابا شاہ مسافر کے زمانے کی تقریباً تین سو سالہ قدیم لائبریری موجود  ہے ۔ اس لائبریری میں آج بھی ہزاروں کی تعداد میں نادر ونایاب کتابی اور قلمی نسخے موجود ہیں لیکن موجودہ دورمیں یہ علمی ذخیرہ کباڑخانے میں پڑا ہوا ہے ۔ اس لائبریری کے تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب حضورنظام نے پایہ تخت حیدرآباد منتقل کیا تو اورنگ آباد سے کتابوں کا بڑا ذخیرہ حیدرآباد منتقل کیا گیا لیکن اس کے باوجود یہاں کافی ساری کتابیں اور قلمی نسخے موجود ہیں تاہم اردو والوں کی لاعلمی اور ریاستی وقف بورڈ کی کوتاہی سے آج بڑا علمی اور تاریخی  ذخیرہ کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے ۔

 اورنگ آباد کے تاریخی شاہکار میں پن چکی کا شمار ہوتا ہے ۔ پن چکی اور بی بی کا مقبرہ دیکھنےکے لیےغیرملکی سیاح اورنگ آباد کا رخ کرتے ہیں ۔ پن چکی دراصل حضرت مولانا عاشور المعروف بابا شاہ مسافر اور حضرت شاہ محمد سعیدعرف پلنگ پوش کی خانقا ہیں ہیں۔  انھیں خانقاہوں میں باباشاہ مسافرکا کتب خانہ بھی تھا ۔ جس کا قیام  آصف جہاں اول  کے دور میں  یعنی سترہویں صدی عمل میں آیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دور کے جید عالم اور اسلامی اسکالر غلام علی آزاد  بلگرامی جب اورنگ آباد آئے اور انھوں نے لائبریری دیکھی تو پھر وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ اورنگ آباد میں غلام علی آزاد  بلگرامی نے سات قلمی نسخے تحریر کیے، جن میں کچھ قلمی نسخے انتہائی بوسیدہ حالت میں موجود ہیں ۔

اورنگ آباد میں تین سو سالہ قدیم  بابا شاہ مسافر لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں

 لائبریری کے ریکارڈ کے مطابق آج بھی یہاں ڈھائی ہزار کتابوں کا نایاب ذخیرہ ہے لیکن جس کمرے کو لائبریری کے طور پر بتایا جاتا ہے وہاں محض چند کتابیں اور شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں کا تحریر کردہ  قرآن کریم کے نسخے ہیں ۔ جبکہ تاریخ کے جانکاروں کا دعوی ہے کہ یہ اپنے دور کی ایشیا کی سب سے مقبول ترین لائبریری تھی۔ ای ٹی وی ٹیم نے جب دیگر کتابوں کے تعلق سے استفسار کیا تو وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن میں لے جایا گیا جہاں چند بوسیدہ الماریوں میں کتا بیں مقفل تھیں ۔ پانچ تا آٹھ الماریوں میں لاوارث کی  حالت میں ان کتابوں اور قلمی نسخوں کو انتہائی بے دردی سے ایک کونے میں ٹھونس دیا گیا ہے، جن کا کوئی نگہبان نہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز