ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ، 35 ایف آئی آر ، 2800 گواہ ، اب تک 800 کے بیانات درج

Jul 14, 2017 09:46 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 09:47 PM IST

ممبئی : ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے پہلے ایسے مقدمہ جس میں 35؍ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت کی جارہی ہے ۔  سنوائی میں اب تک2800 سرکاری گواہان میں سے 900سرکاری گواہان سے مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکلاء نے جرح کی ہے۔

گذشتہ کل احمد آباد کی خصوصی عدالت میں جاری سماعت کا جائزہ لیکر ممبئی پہنچے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکیل شاہد ندیم نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست گجرات کے تجارتی شہروں احمد آباد اور سورت میں سال 2009 میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات کی سماعت احمد آبا د کی خصوصی عدالت میں جاری ہے اور ابتک اس معاملے میں 2600 سرکاری گواہوں میں سے 900 سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج عمل میں آچکا ہے جس میں فریادی، زخمی، ڈاکٹرس ، پنچ ، حادثوں کے مقامات پر موجود عینی شاہدین ، حکومت گجرات کے افسران و دیگر شامل ہیں۔

ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ، 35 ایف آئی آر ، 2800 گواہ ، اب تک 800 کے بیانات درج

انہوں نے کہا کہ ججوں کے تبادلے کی وجہ سے معاملے کی سماعت اس تیزی سے نہیں ہوپارہی تھی لیکن نئے جج اے آر پٹیل کے چارج سنبھالنے کے بعد سے سرکاری گواہان کو عدالت میں گواہی کے لیے طلب کیا جارہا ہے اور ہفتہ میں تین دن مقدمہ کی سماعت کا شیڈول بنایا گیا ہے ، حالانکہ گجرات حکومت کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 268 کے نفاذ کے بعد سے ملزمین کی عدالت میں حاضری پر روک لگی ہوئی ہے لیکن بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ انہیں عدالت کی کارروائی میں شریک کیا جارہا ہے ۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ بھوپال منتقل کیئے گئے دس ملزمین کو واپس احمد آباد بلانے کے لیئے احمد آباد ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے جس پر 20؍ جولائی کو سماعت ممکن ہے نیز احمد آباد کی سابرمتی جیل میں مقید ملزمین پر سے دفعہ 268 ہٹانے کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ ملزمین کو دیگر ریاستوں میں ان کے خلاف جاری میں حصہ لینے کے لیئے بھیجا جائے لیکن حکومت گجرات اس کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے ملزمین کے اہل خانہ اور دفاعی وکلاء سے علیحدہ علیحدہ ملاقات مقامی جمعیۃ کے ذمہ داران مفتی عبدالقیوم،مفتی رضوان، مرزا نور بیگ، سلمان احمد و دیگر کے توسط سے کی اور انہیں یقین دلایا کہ جمعیۃ ہر محاز پر مظلومین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی ہدایت پر ملزمین کی جیل سے رہائی تک قانونی لڑائی لڑتے رہے گی۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اس ضمن میں کہا کہ اس معاملے میں ملک کے مختلف شہروں سے گرفتار 85 اعلی تعلیم یافتہ ملزمین میں سے 65 مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء کررہی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز