ہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہےپانچ مسلم نوجوانوں کا مقدمہ کی سماعت میں تاخیر سے دل برداشتہ ہوکر اعتراف جرم کا فیصلہ

Nov 06, 2017 06:15 PM IST | Updated on: Nov 06, 2017 06:15 PM IST

ممبئی: دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہے مراٹھواہ کے پانچ مسلم نوجوانوں نے مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ ہوکر جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور اس تعلق سے ممبئی کی سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں تحریری عرضداشت بھی داخل کی جس پر عدالت نے 13نومبر کو سماعت کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سال2010میں مہاراشٹر انسداد ہشت گرد دستہ اے ٹی ایس نے پانچ مسلم نوجوانوں محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو گرفتار کرکے آرمس قانون کی دفعات 3،52 اور یواے پی اے قانون کی دفعات 01،31،51، اور 61 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ملزمین کا لشکر طیبہ اور ہوجی جیسی تنظیموں سے تعلق ہے اور ان کے نشانے پر ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔

ہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہےپانچ مسلم نوجوانوں کا مقدمہ کی سماعت میں تاخیر سے دل برداشتہ ہوکر اعتراف جرم کا فیصلہ

شروعات میں معاملے کی تفتیش اے ٹی ایس نے کی اور پھر بعد میں قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو معاملہ کی تحقیقات سونپی گئی جس نے ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کیا اور اس کے بعد اورنگ آباد سے مقدمہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت منتقل ہوگیا اور ملزمین پر فرد جرم عائد کیئے جانے کے بعد باقاعدہ سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج ہونے لگا اور ابتک 17 گواہوں نے اپنے بیانات کا اندارج کراچکے تھے لیکن مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ مسلم نوجوانو ں نے جرم قبول کرنے کا فیصلہ کی اور آج اس تعلق سے عدالت کو مطلع بھی کیا گیا۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ملزمین کے اس فیصلہ کو ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے انہیں دی جانے والی قانونی امداد کو فوراً ختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے ان کے وکلاایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ کو مقدمہ سے دستبردار ہوجانے کی ہدایت دی جس کے کے بعد دونوں نے عدالت سے اپنا وکالت نامہ نکال لیا۔

ملزمین کے ذریعہ جرم قبول کئے جانے کے تعلق سے سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے اخبار ات کے نام جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ملزمین اور ان کے اہل خانہ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ملزمین کا یہ فیصلہ انہیں مستقبل میں بہت نقصان پہنچاسکتا ہے نیز اب جبکہ سرکاری گواہان عدالت میں اپنے بیانات اندارج کرانے لگے ہیں آئندہ ایک سال میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے کی امید ہے لیکن ملزمین اس بات پر بضد رہے کہ انہیں ایسا لگتا ہیکہ ان کا مقدمہ ماضی قریب میں ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ وقتاً فوقتاً ججوں کی ہونے والی تبدیلی سے وہ مایوس ہوچکے ہیں۔

گلزار اوعظمی نے کہاکہ آج صبح دفتر جمعیت علماء میں ملزمین کے اہل خانہ اور وکلاکی ایک میٹنگ کا انعقاد بھی کیا گیا تھااور ملزمین کے اہل خانہ کو ملزمین کو سمجھانے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن ملزمین نے سیشن عدالت میں ان کے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات کے بعد بھی اپنے فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز