ممبرا میں سماجی خدمات کی انوکھی مثال: ٹریفک ہٹانے کا کام کرتا ہے یہ ‘‘ کیلے والا‘‘۔

ممبرا کا سب سے زیادہ ٹریفک زدہ علاقہ کوسہ اور شملہ پارک مانا جاتا ہے۔

Sep 04, 2018 06:40 PM IST | Updated on: Sep 06, 2018 08:43 PM IST

ممبرا میں بڑھتی ٹریفک پر میٹنگوں، مشوروں کا دور تو جاری ہے لیکن ٹریفک ہے کہ روز بہ روز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بڑے بڑے ہال میں سماجی وسیاسی کارکنان ایک عرصہ سے صرف باتیں ہی کر رہے ہیں اور وہیں دوسری جانب شہر کی سڑک کے ایک کونے میں ٹھیلے پر کیلا بیچنے والا شخص خاموشی سے اپنی سماجی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔

ممبرا کا سب سے زیادہ ٹریفک زدہ علاقہ کوسہ اور شملہ پارک مانا جاتا ہے۔ یہاں کلیم شیخ نامی ایک کیلے والا شخص گذشتہ دس سال سے کیلے بیچتا ہے لیکن جب سے ٹریفک بڑھی ہے وہ کیلے کا دھندا چھوڑ کر ٹریفک ہٹانےکے کام میں مصروف ہوجاتا ہے اور اس طرح کی بے لوث خدمات کلیم کیلے والا گذشتہ تین برسوں سے کر رہا ہے۔ کئی سماجی تنظیموں نے اس کام کا خیرمقدم بھی کیا ہے اور کلیم شیخ کو ایوارڈ سے بھی نوازا ہے ۔

ممبرا کی اس بڑھتی ٹریفک کو دیکھ کر شہر کے نوجوانوں نے مل کر ٹریفک فری ممبرا نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ہے۔ اس طرح ٹی ایف ایم کے یہ نوجوان اکثر رمضان ، دیگر تہواروں اور خاص کر بچوں کے امتحانات کے دور میں سڑک پر اتر کر ٹریفک ہٹانے کا کام کرتے ہیں ۔

یہاں کلیم شیخ نامی ایک کیلے والا شخص گذشتہ دس سال سے کیلے بیچتا ہے یہاں کلیم شیخ نامی ایک کیلے والا شخص گذشتہ دس سال سے کیلے بیچتا ہے

مسلم اکثریتی علاقوں میں اکثر لوگ انتظامیہ کا رونا روتے ہیں لیکن ان علاقوں میں ٹریفک کے زیادہ ذمہ دار خود یہاں کے شہری بھی ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر بے ترتیب پارکنگ ، ٹریفک کانسٹبلوں سے الجھنا ، سڑک پر الٹی سمت میں گاڑی چلانا وغیرہ یہاں عام بات ہوتی ہے۔

 لیکن، وہیں، دوسری جانب کلیم شیخ اور ٹی ایف ایم ٹیم نے بجائے انتظامیہ یا ٹریفک پولیس کو مورد الزام ٹھہرانے کے اپنی سماجی ذمہ داری نبھانے کا کام کر کے عام لوگوں کے لئے ایک مثال پیش کر رہے ہیں۔

انوار الحق کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز