اورنگ آباد میں اب عام آدمی بھی پولیس کے رول میں، ایک ہزار کو بنایا گیا اسپیشل پولیس افسر

Sep 05, 2017 06:56 PM IST | Updated on: Sep 05, 2017 06:56 PM IST

 اورنگ آباد۔  پولیس کو ہزاروں کی تعداد میں  نئے مددگار مل گئے ہیں ۔ جی ہاں  ایک عام آدمی بھی اب شہر کے امن و امان کی برقراری میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ عام آدمی کو پولیس سے جوڑنے کا  ہندوستان میں یہ  تجربہ پولیس کمشنر یشسوی یادو کی نئی سوچ کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے ۔ کئی لوگ ایسے مل جائیں گے جواس خواب کے ساتھ بڑے ہوئے کہ وہ محکمہ پولیس میں خدمات انجام دینگے لیکن  زندگی نے انھیں کسی اور ہی رخ پر ڈال دیا ۔ لیکن  ایسے لوگوں کے خواب  اب اورنگ آباد میں پورے ہونے جا رہے ہیں ۔

اب اگر کوئی کیسری رنگ کا جیکٹ پہنے اور ہاتھ میں لاٹھی لیے نظر آئے تو سمجھ جائیے کہ  وہ اسپیشل پولیس افسرہے۔ ایک عام آدمی کو یونیفارم اور لاٹھی تھمانےکا کام پولیس کمشنر یشسوی یادو نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت کیا ہے ۔ جن لوگوں کا تقرر عمل میں آیا ہے انھیں اگلے تین مہینے تک انھیں ایس پی او کی حیثیت سے کام کرنا ہے ۔ پولیس کمشنر یشسوی یادو نےامید ظاہر کی کہ انکی پالیسی کامیاب رہے گی۔  پولیس کے مددگارکے طور پر کام کرنے والےاسپیشل پولیس افسروں کو ایک ہفتے میں بارہ گھنٹےعملی طور پرخدمات انجام دینی ہوں گی ۔ بدلے میں پولیس  محکمہ کی طرف سے انھیں کچھ مراعاتیں بھی حاصل رہیں گی ۔

اورنگ آباد میں اب عام آدمی بھی پولیس کے رول میں، ایک ہزار کو بنایا گیا اسپیشل پولیس افسر

 اسپیشل پولیس افسر بنے جیئش دلیپ باگل کا کہنا ہے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ پولیس کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملے گا۔ میں پولیس کمشنرکا ممنون ہوں کہ انھوں نے پولیس کے مددگار کے طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ کسی بھی معاملے میں اب ہم پولیس کی مدد کے  لیے تیار ہیں ۔ ایسے ہی ایک اور ایس پی او راجیش نگھ سوریہ ونشی نے کہا اب ہم پولیس کے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرینگے ، سماجی خدمت کا پہلے سے چسکا ہونے کی وجہ سے اس کام میں بھی دل لگے گا۔  اب کوئی یہ نہیں کہہ  پائیگا کہ تم کون ہو ۔ پولیس کمشنرنے اچھا موقع فراہم کیا ہے ۔ سماج کی تعمیر میں اورشہریوں کی خدمت کا ہمیں موقع ملے گا۔

پولیس کمشنر یشسوی یادو کےمطابق سہ ماہی اسکیم  کے تحت عام آدمی کو اسپیشل پولیس افسر کی حیثیت سے موقع دیا جا رہا ہے ۔ ابتدائی مرحلے میں شہر کے بیس ہزار افراد نے اسپیشل پولیس افسر کے لیے فارم داخل کیے تھے۔  اعلی پولیس  افسران نے انھیں جانچا پرکھا اور ایک ہزار لوگوں کا اسپیشل پولیس افسر کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا ہے ۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید لوگوں کو مواقع دیئے جا سکتے ہیں ۔ خاتون ایس پی او شلیجہ  منڈھے نے کہا کہ  کالج اور تعلیمی اداروں میں طالبات سے چھیڑ چھاڑ کو روکنے کی ہم کوشش کریں گے،طلبا کی کاؤنسلینگ کرینگے ، پولیس کی مدد کرکے ہمیں دلی خوشی ہوگی۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز