پاریکر کا بیان اور گئو رکشکوں کے حملے بی جے پی کے دو متضاد چہرے: ابو عاصم اعظمی ‎

Jul 19, 2017 05:01 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 05:01 PM IST

 ناندیڑ۔ ’’ گئو رکشا کے نام پر ہورہے تشدد کو روکنے میں مودی حکومت سنجیدہ نہیں ہے ۔ اس معاملے میں محض بیان بازی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ' عملی طورپر ٹھوس کاروائی نہیں کی جا رہی ہے ‘‘۔  ان خیالات کا اظہار سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی نے ناندیڑ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ انہوں نے گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر کے اسمبلی میں دیئے گئے بیان اور گئو  رکشا کے نام پر ہو رہے حملوں کو دو متضاد باتیں بتا کر بی جے پی کو گھیرا وہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاسپورٹ کو منسوخ کرنے پر حکومت کی تنقید بھی کی ۔

 ابوعاصم اعظمی نے اپنے ناندیڑ دورے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پرشدید تشویش کا اظہار کیا ۔ خاص طورپر بیف بین اور گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ہو رہے ظلم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے یہ اندیشہ بھی جتایا کہ ظلم کا یہ سلسلہ رکا نہیں تو مسلمان بھی جوابی کارروائی پر مجبور ہو جائیں گے ۔ وہیں اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاسپورٹ کو منسوخ کرنے پر انہوں نے سوالیہ نشان لگا تے ہوئے حکومت کی نکتہ چینی کی ہے ۔

پاریکر کا بیان اور گئو رکشکوں کے حملے بی جے پی کے دو متضاد چہرے: ابو عاصم اعظمی ‎

واضح  ہو کہ گوا کے چیف منسٹرمنوہر پاریکر نے اسمبلی میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گوا میں بیف کی کمی نہیں پڑنے دی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر دیگر ریاستوں سے بیف لایا جائے گا ۔ منوہر پاریکر کے اس بیان اور دوسری طرف ملک میں گئو رکشا کے نام پر ہورہے تشدد کو دو متضاد باتیں بتا کر ابو عاصم اعظمی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو گھیرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے  کہا کہ ملک میں ایک مخصوص نظریہ کی بالادستی قائم کرنے کی کوششں کی جا رہی ہے ۔ اس کے لئے ہندو اور مسلمانوں میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ ایسے ماحول میں ابوعاصم اعظمی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ دیگرامن پسند طبقات کو ساتھ لیکر قومی یکجہتی کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز