جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا سختی سے نفاذ انتہائی ضروری

Jan 05, 2017 08:44 PM IST | Updated on: Jan 05, 2017 08:44 PM IST

ممبئی : سیریم کورٹ کے حالیہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کے معاملے میں انتہائی سخت رویہ پر راجیہ سبھا کے ممبر اور این سی پی کے سنیئر ترین لیڈرایڈوکیٹ مجید میمن نے آج یہاں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو سختی سے نافذ کیا جاناچاہیے کیونکہ موجودہ این ڈی اے سرکار کا رجحان اور سیاسی مفادمیں ہمیشہ سیاست اور مذہب کو ساتھ ساتھ لانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

ایڈوکیٹ مجید میمن نے ، جوکہ ماہر قانون بھی ہیں ،یہاں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں اتفاق رائے نہیں تھا جوکہ ملک کے سیکولرزم اورجمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ،البتہ سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ ایک نظیر ہے اور انتظامیہ کو اس پر کڑی نظررکھنی چاہئے تاکہ کوئی بھی سیاست داں ووٹ کے لیے مذہب وذات پات کا استعمال کرسکیں۔

جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا سختی سے نفاذ انتہائی ضروری

انہوں نے مزید کہاکہ مرکز اور ملک کی کئی ریاستوں میں بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومتوں کے دور میں کبھی لوجہاد،کبھی رامزادے اور اس قسم کے معاملات اٹھا کر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ،لیکن اب ان عناصر کو لگام لگ جائے گی۔مجید میمن نے اس بات پرامید ظاہر کی کہ اس فیصلہ کو اترپردیش کے انتخابات میں کافی اہمیت مل سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ الیکشن کے دوران کوئی بھی شخص ،لیڈر،امیدواریا پھر کوئی پارٹی کارکن اگر مذہب،ذات ،جماعت،سماج،یا پھر زبان کے نام پرووٹ کی اپیل کرتا ہے تو ایسی صورت میں امیدوار کا انتخاب کالعدم قراردیا جائے گا اور 1950کے ترمیم شدہ مجریہ قوانین میں سخت دفعات موجود ہیں۔

ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہاکہ اکثر ایسے معاملے میں کارروائی نہیں ہوتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ برسراقتدار کے دباؤ میں کام کرتے ہیں اور کارروائی نہیں کرتے ہیں۔اگر کارروائی ہوتی بھی ہے تو کمزورانداز ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکار سے کم ہی امید کی جاسکتی ہے ،اس کے لیے الیکشن کمیشن اور انتظامیہ اور پولیس مشنری کو کڑی نظررکھنی ہوگی ۔کیونکہ ان کی کمزوروی کے سبب ایک مخصوصی فرقے کے خلاف مختلف طریقوں سے کشیدگی پھیلائی گئی اورعدم برادشت پر ملک کے دانشوروں او دیگراہم شخصیات نے سخت رویہ اختیارکیا ۔ایسے موقعہ پرسب کی بڑی اقلیت نے صبر وتحمل کامظاہرہ کیا۔

مجید میمن کا کہنا تھا کہ یوپی الیکشن کابگل بجنے کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں اور چند عناصر ریاست میں فرقہ وارانہ رنگ دے سکتے ہیں جوکہ انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ،اس لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی سرگرم ہوجانا چاہئے او رایسے عناصرکو ناکابنادیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز