راجستھان میں سنگین ہوتی فرقہ وارانہ صورت حال پر جمعیۃ علماء کے وفد نے وزیر داخلہ سے کی ملاقات

وفد نے اپنے پیش کردہ میمورنڈم میں کہا کہ آج ہمارا وفد اس دکھ اور تکلیف کے اظہار کے لیے آیا ہے جو الور میں پہلو خاں، عمرخاں، پرتاپ گڑھ میں ظفر خاں اور اب راج سمند میں افراز کے ظالمانہ اور وحشیانہ قتل کی وجہ سے ملک کا ہر امن پسند طبقہ بلالحا ظ مذہب و فرقہ محسوس کررہا ہے۔

Dec 12, 2017 07:12 PM IST | Updated on: Dec 12, 2017 07:12 PM IST

جے پور ؍نئی دہلی۔ راجستھان کے وزیر داخلہ گلاپ چند کٹاریہ نے جمعیۃ علماء کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ افرازالاسلام ، پہلو خاں وغیرہ کے وحشیانہ قتل سمیت ریاست میں سنگین فرقہ وارانہ صورت حال یقینا قابل توجہ مسئلہ ہے اور ان کی سرکار نہ صرف مجرمو ں کو سزا دلانے کے لیے پابند عہد ہے بلکہ فرقہ وارانہ صورت حال کو درست کرنے کے لیے سبھی فرقوں کے ذمہ دار حضرات سے مشورہ لے گی اور بالخصوص ہندو اور مسلمان کے بااثر افرا د کو ایک ساتھ بیٹھایا جائے گا تا کہ ایسے حالات کا مناسب و معقول حل نکالا جائے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر آج صبح مولانا شبیر احمد نائب صدر جمعیۃ علماء راجستھان کی سربراہی میں تنظیم کا ایک وفد وزیر داخلہ سے جے پو رمیں ان کی رہائش گاہ پر ملا اوران کو جمعیۃ کی طرف سے ایک تفصیلی میمورنڈم سونپا۔ وفد میں حافظ منظور علی خاںنائب صدر جمعیۃ علما ء راجستھان،مولانا یحیی کریمی صدر جمعیۃ علماء ہریانہ ، پنجاب وہماچل،مولانا یونس سکریٹری، مولانا حنیف نائب صدر علماء ر اجستھان، مولانا نعمان ، مولانا عبدالحمید صدر جمعیۃ علماء جے پوراور مفتی شفیق ناظم جمعیۃ علماء جے پور وغیرہ شریک تھے ۔

وفد نے اپنے پیش کردہ میمورنڈم میں کہا کہ آج ہمارا وفد اس دکھ اور تکلیف کے اظہار کے لیے آیا ہے جو الور میں پہلو خاں، عمرخاں، پرتاپ گڑھ میں ظفر خاں اور اب راج سمند میں افراز کے ظالمانہ اور وحشیانہ قتل کی وجہ سے ملک کا ہر امن پسند طبقہ بلالحا ظ مذہب و فرقہ محسوس کررہا ہے۔ تحفظ گائوکے نام پرائیویٹ گروہوں کے ذریعے قانون ہاتھ میں لینے اور قاتلانہ حملوں کو کوئی بھی جائز قرار نہیں دے سکتا ، اسی طرح لوجہاد جیسے بے بنیاد مسائل کھڑا کر کے سماج میں نفرت و عداوت کو فروغ دینے کا معاملہ بالخصوص راجستھان میں ایک سنگین رخ اختیار کرچکا ہے ۔ چند فرقہ پرست عناصر کھلے عام ایسے معاملات کو اٹھا کر لوگوں کو برین واش کررہے ہیں۔ حال میں جے پور میں منعقد ایک میلہ میں بجرنگ دل نے نفرت پر مبنی مواد کو کھلے عام تقسیم کیا جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ہم یہاں ایک با ت واضح کردیں کہ بین مذاہب شادی کا رجحان یہ سماجی مسئلہ ہے ، اسے کسی مذہب سے ہرگز نہ جوڑا جائے۔ مسلم سماج میں بھی ایسی شادیوں کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ راج سمند کے شمبھو لال کے معاملے کو صرف قتل کا واقعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی سوچ اور اس کے اظہار کے طریقے کی گہرائی کو سمجھا جائے تو یہ معاملہ بہت ہی دھماکہ خیز ظاہر ہو تا ہے ۔

راجستھان میں سنگین ہوتی فرقہ وارانہ صورت حال پر جمعیۃ علماء کے وفد نے وزیر داخلہ سے کی ملاقات

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر آج صبح مولانا شبیر احمد نائب صدر جمعیۃ علماء راجستھان کی سربراہی میں تنظیم کا ایک وفد وزیر داخلہ سے جے پو رمیں ان کی رہائش گاہ پر ملا اوران کو جمعیۃ کی طرف سے ایک تفصیلی میمورنڈم سونپا۔

میمورنڈم میں متاثرین کے لیے مناسب معاوضہ سمیت متعدد مطالبات کیے گئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں (۱) افرازل کے معاملے کی مکمل اور جامع جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے، انکوائری میں اس پہلو کو شامل کیا جائے کہ ایا شمبھو لال کا برین واش تو نہیں کیا گیا تھا ؟ او رکیا گیا تو وہ کون سا نیٹ ورک ہے (۲) افرازل کے مجرموں کوسخت سزا دی جائے ، نیز افرازل کے ا ہل خانہ کو کم ازکم بیس لاکھ روپے بطور معاوضہ دیا جائے ، اعلان کردہ معاوضہ ناکافی ہے ۔(۳) سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہر ضلع میں ایک نوڈل افسر مقرر کیا جائے جوصرف گائے کے نام پر تشدد ہونے سے روک سکے ۔(۴) نصاب کی کتابوں میں نفرت پھیلانے والے مواد کو باہر کیا جائے بالخصوص تاریخ سے متعلق من گھڑت باتوں کو نصاب کا حصہ نہ بنایا جائے ۔(۵) نیز امن وایکتا قائم کرنے کے لیے سرکاری طور سے پمفلٹ اور اشتہارات شائع کیے جائیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز