اجمیر درگاہ دیوان سید زین العابدین نے کیا ملک میں گئو کشی پر مکمل پابندی کا مطالبہ

Apr 03, 2017 07:40 PM IST | Updated on: Apr 03, 2017 07:40 PM IST

اجمیر۔  راجستھان میں اجمیر کے صوفی سنت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سجادہ نشيں اور روحانی سربراہ درگاہ دیوان سید زین العابدین علی خان نے کہا کہ گوشت کے کاروبار کے مسئلے پرملک میں دو طبقوں کے درمیان پنپنے والے تعصب کو ختم کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو ملک بھر میں گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنی چاہئے اور مسلمانوں کو بھی ان سے خود کو دور رکھ کر ان کے گوشت کا استعمال ترک کرنے کی پہل کرنی چاہئے۔ درگاہ دیوان زین العابدین علی خان نے آج درگاہ اجمیر شریف سے ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا جب اجمیر میں خواجہ صاحب کا 805 واں سالانہ عرس چل رہا ہے اور اس میں لاکھوں مسلم عقیدتمندوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شرکت کر رہے ہیں ۔ ملک اور بیرون ملک سے آنے والے مختلف فرقے کے لوگوں کے درمیان یہ  بیان اہم خیال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم علمائے دین کا بھی یہ موقف ہے کہ ایک وقت میں زبانی تین طلاق دینے کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔ مسلمان اس عمل میں شریعت کی نافرمانی سے بچیں۔

سالانہ عرس کے اختتام کے موقع پر خانقاہ اجمیرشریف میں روایتی طور پر منعقد ہونے والی محفل کے بعد سالانہ اجتماع میں ملک کی مختلف درگاہوں کے سجادگان، صوفیوں، اور مذہبی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گائے کی نسل کے جانوروں کی گوشت خوری سے ملک میں سینکڑوں سال سے جس گنگا جمنی تہذیب کے سبب ہندو اور مسلمانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا ماحول قائم تھا ،اسے ٹھیس پہنچي ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ہم آہنگی کی وراثت کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے مسلمانوں کو تنازعہ کی جڑ کو ہی ختم کرنے کی پہل کرتے ہوئے گائے (بیف) کے گوشت کے استعمال کو ترک دینا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ملک کے اتحاد اور دو اہم فرقوں کے درمیان تصادم اور رنجش کا سبب بننے والے بیف اور گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کے گوشت کی فروخت کو ممنوع کر دینا چاہیے۔ جس سے اس ملک کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ محبت اور ہم آہنگی دوبارہ اسی طرح قائم ہو سکے جیسی سینکڑوں سالوں سے چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیشرو خواجہ معین الدین چشتی نے اس ملک کی ثقافت کو اسلام کے قوانین کے ساتھ اپنا کر ملک میں امن و سکون اور انسانی خدمت کے لئے زندگی وقف کیا تھا۔ اسی تہذیب کو بچانے کے لیے غریب نواز کے 805 واں عرس کے موقع پر میں اور میرا خاندان گوشت کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کرتے ہيں اور ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ ملک میں ہم آہنگی دوبارہ قائم کرنے کے لیے وہ بھی اس نمونہ کو اپنا کر مثال پیش کریں۔

اجمیر درگاہ دیوان سید زین العابدین نے کیا ملک میں گئو کشی پر مکمل پابندی کا مطالبہ

علامتی تصویر

درگاہ دیوان نے گجرات حکومت کے فیصلے کی تعریف کرتے هوئے کہا کہ گجرات اسمبلی میں جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ 2011 کو پاس کیا گياہے ، اس قانون کے مطابق، کسی بھی آدمی کو گوشت لے جانے پر عمر قید کی سزا ہو گی۔ مرکزی حکومت کو پورے ملک میں گائے نسل کے تمام جانوروں کے تحفظ کے لیے ان کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر گئو کشی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا کا قانون بنانا چاہئے اور گائے کو قومی جانور بھی اعلان کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف گائے اور اس کی نسل کو بچانا ہے کیونکہ وہ ہندوؤں کے عقیدے کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر مذہب کو ماننے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ان جانوروں کی حفاظت کرے۔ انہوں نے قوانین میں یکسانیت لانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ریاست میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہی جانوروں کے ذبیحہ پر روک لگا دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی طرح کا جانور نہیں کاٹا جانا چاہئے۔ ملک کی تمام ریاستوں میں ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گایوں کو قانون کے مطابق کاٹا جاتا ہے ،جو سراسر غلط ہے۔

درگاہ دیوان نے اسلامی شریعت کے حوالے سے کہا کہ اسلام میں شادی کو دو افراد کے درمیان ایک سماجی معاہدہ تصور کیا گیا ہے۔ اس معاہدہ کی صاف شرائط نکاح نامہ میں درج ہونی چاہئے۔ قرآن میں طلاق کو انتہائی ناپسندیدہ بتایا گیا ہے۔ اس حساس مسئلے پر ان کا موقف ہے کہ ایک بار میں تین طلاق کا طریقہ آج کے زمانے میں غیر متعلقہ ہی نہیں، بلکہ خود قرآن کے مقاصد کے برعکس بھی ہے۔ عارضی ناراضگي اور عدم موافقت سے بچنے کے لئے تین طلاق کے درمیان تھوڑا تھوڑا وقفہ ضرور ہونا چاہئے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب نکاح لڑکے اور لڑکی دونوں کی رضامندی سے ہوتا ہے، تو طلاق کے معاملے میں کم از کم عورت کے ساتھ تفصیلی بات چیت بھی یقینی طور پر کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح جب دونوں کے خاندانوں کی موجودگی میں ہوتا ہے تو طلاق تنہائی میں کیوں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا تھا کہ اللہ تعالی کو طلاق سخت ناپسند ہے۔ قرآن کی آیات میں صاف دکھایا گیا ہے کہ اگر طلاق ہو ہی ہو تو اس کا طریقہ ہمیشہ عدالتی اور شرعي ہو۔ قرآن کی آیات میں کہا گیا ہے کہ اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو تو اسے بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ضرورت پڑنے پر حل کے لئے دونوں خاندانوں سے ایک ایک ثالثی بھی مقرر کریں۔ حل کی یہ کوشش کم سے کم 90 دنوں تک ہونی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز