تین طلاق پر بیان دینے کے بعد سجادہ نشیں زین العابدین کو درگاہ دیوان کے عہدہ سے ہٹایا گیا

Apr 05, 2017 12:35 PM IST | Updated on: Apr 05, 2017 12:36 PM IST

اجمیر۔ راجستھان کے اجمیر کے صوفی سنت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سجادہ نشيں اور روحانی سربراہ درگاہ دیوان سید زین العابدین علی خان کے ذریعہ  تین طلاق اور گائے کی نسل کے جانوروں کی گوشت کے معاملے میں دئیے گئے  بیان نے اس وقت انہیں مشکل میں ڈال دیا جب ان کے بھائی نے انہیں عہدہ سے ہٹا کر خود درگاہ دیوان بننے کا اعلان کردیا۔ چھوٹے قُل کی رسم کے ساتھ غیررسمی طور پر ختم ہوئے 805 ویں سالانہ عرس کے بعد رات گئے خواجہ صاحب کے وارث سجادہ نشیں اور روحانی سربراہ درگاہ دیوان سید زین العابدین علی خان اور ان کے بھائی سید علاء الدین علیمی کے مابین ’درگاہ دیوان کی گدی‘ کے سلسلہ میں تنازعہ بڑھ گیا ۔ سید علاء الدین علیمی نے رات گئے تلخ موقف اختیار کرتے ہوئے درگاہ دیوان عابدین کو دیوان کے عہدہ سے ہٹانے کا دعوی کیا ہے اور بغاوت کرتےہوئے خود کو درگاہ کا دیوان قرار دے دیا ہے جس سے مقامی مسلم سماج میں راتوں رات کھلبلی مچ گئی۔ پیر کو درگاہ دیوان عابدین کی جانب سے جاری ریلیز میں گائے کی نسل کے جانوروں کو ذبح کرنے اور گوشت کی فروخت پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے کا مطالبہ، مسلمانوں سے بیف چھوڑنے کی اپیل اور خود بھی اور کنبہ کے ذریعہ بیف نہ کھانے کے اعلان کے ساتھ ہی تین طلاق کو قرآن کے مطابق ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا گیا۔ اس سے خفا ہو کر بھائی سید علاء الدین علیمی نے بغاوت کرتے ہوئے کل دن میں قُل کی رسم میں تو شامل ہوئے لیکن آستانہ شریف میں نہیں گئے۔

سید علیمی نے دعوی کیا ہے کہ دیوان عابدین کے خلاف ملک بھر کے علماء سے فتوی منگایا جائے گا جس میں دیوان کو ان کی سرگرمیوں کے تحت حنفی مسلمان نہ مانتے ہوئے گدی کے لئے نااہل قرار دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سید زین العابدین علی خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گوشت کے کاروبار کے مسئلے پرملک میں دو طبقوں کے درمیان پنپنے والے تعصب کو ختم کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو ملک بھر میں گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنی چاہئے اور مسلمانوں کو بھی ان سے خود کو دور رکھ کر ان کے گوشت کا استعمال ترک کرنے کی پہل کرنی چاہئے۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا جب اجمیر میں خواجہ صاحب کا 805 واں سالانہ عرس چل رہا ہے اور اس میں لاکھوں مسلم عقیدتمندوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شرکت کر رہے ہیں ۔ ملک اور بیرون ملک سے آنے والے مختلف فرقے کے لوگوں کے درمیان یہ بیان اہم خیال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم علمائے دین کا بھی یہ موقف ہے کہ ایک وقت میں زبانی تین طلاق دینے کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔ مسلمان اس عمل میں شریعت کی نافرمانی سے بچیں۔

تین طلاق پر بیان دینے کے بعد سجادہ نشیں زین العابدین کو درگاہ دیوان کے عہدہ سے ہٹایا گیا

سالانہ عرس کے اختتام کے موقع پر خانقاہ اجمیرشریف میں روایتی طور پر منعقد ہونے والی محفل کے بعد سالانہ اجتماع میں ملک کی مختلف درگاہوں کے سجادگان، صوفیوں، اور مذہبی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گائے کی نسل کے جانوروں کی گوشت خوری سے ملک میں سینکڑوں سال سے جس گنگا جمنی تہذیب کے سبب ہندو اور مسلمانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا ماحول قائم تھا ،اسے ٹھیس پہنچي ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ہم آہنگی کی وراثت کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے مسلمانوں کو تنازعہ کی جڑ کو ہی ختم کرنے کی پہل کرتے ہوئے گائے (بیف) کے گوشت کے استعمال کو ترک دینا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ملک کے اتحاد اور دو اہم فرقوں کے درمیان تصادم اور رنجش کا سبب بننے والے بیف اور گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کے گوشت کی فروخت کو ممنوع کر دینا چاہیے۔ جس سے اس ملک کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ محبت اور ہم آہنگی دوبارہ اسی طرح قائم ہو سکے جیسی سینکڑوں برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیشرو خواجہ معین الدین چشتی نے اس ملک کی ثقافت کو اسلام کے قوانین کے ساتھ اپنا کر ملک میں امن و سکون اور انسانی خدمت کے لئے زندگی وقف کیا تھا۔ اسی تہذیب کو بچانے کے لیے غریب نواز کے 805 واں عرس کے موقع پر میں اور میرا خاندان گوشت کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کرتے ہيں اور ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ ملک میں ہم آہنگی دوبارہ قائم کرنے کے لیے وہ بھی اس نمونہ کو اپنا کر مثال پیش کریں۔

درگاہ دیوان نے گجرات حکومت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ گجرات اسمبلی میں جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ 2011 کو پاس کیا گياہے ، اس قانون کے مطابق، کسی بھی آدمی کو گوشت لے جانے پر عمر قید کی سزا ہو گی۔ مرکزی حکومت کو پورے ملک میں گائے نسل کے تمام جانوروں کے تحفظ کے لیے ان کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر گئو کشی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا کا قانون بنانا چاہئے اور گائے کو قومی جانور بھی اعلان کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف گائے اور اس کی نسل کو بچانا ہے کیونکہ وہ ہندوؤں کے عقیدے کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر مذہب کو ماننے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ان جانوروں کی حفاظت کرے۔ انہوں نے قوانین میں یکسانیت لانے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ایک ریاست میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہی جانوروں کے ذبیحہ پر روک لگا دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی طرح کا جانور نہیں کاٹا جانا چاہئے۔ ملک کی تمام ریاستوں میں ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گایوں کو قانون کے مطابق کاٹا جاتا ہے ،جو سراسر غلط ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز