اے ایم یو کے مزید مراکز اب ممکن نہیں ، تعلیم کی ترقی کیلئے سب متحد ہو کر کریں کام : وائس چانسلر طارق منصور

Dec 06, 2017 04:33 PM IST | Updated on: Dec 06, 2017 04:33 PM IST

ممبئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طارق محمود نے واضح طورپر کہا ہے کہ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کی ترقی اور فلاح وبہبودان کی تعلیمی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس کے لیے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی کہ ہم سب متحد ہوکراس ضمن میں کام کریں ۔اور وقت کی ضرورت کے مطابق تعلیم پر پوری توجہ دینا ہوگی ۔ گزشتہ شب اے ایم یو کونسل اور ایکزیکٹیو کورٹ کے سنیئر ممبر اور ڈائرکٹر قومی بورڈ برائے وقف (نواڈکو)اور ایم آرسی سی کے جنرل سکریٹری ڈائرکٹر آصف فاروقی کے ذریعہ منعقد کی جانے والی استقبالیہ تقریب میں ممبئی کے مختلف شعبوں اور میدانوں میں سرگرم معززین سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر طارق محمودنے واضح طورپر کہا کہ دراصل سچر کمیٹی نے ہمیں آئینہ دکھا دیا ہے کہ دیگر امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں اوریہاں اس بات کا ذکر کرناخصوصی طورپر ضروری ہے کہ ملک کے مغربی اور جنوبی خطوںکے مقابلے میں شمالی ہند کے مسلمان اکثریتی ریاستوںاترپردیش اوربہارکے ساتھ ہی مغربی بنگال اور آسام میں کافی پسماندہ ہیں اور ان کی تعلیمی ترقی پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔

اس موقع پر بوہر فرقہ شہزادہ ڈاکٹر قائد جوہر صاحب عزالدین ،راجیہ سبھا ایم پی ایڈوکےٹ مجید میمن ،یوٹی آئی کے گروپ صدرامتیازالرحمن ،سابق ایم پی ڈاکٹر اختر حسن رضوی ،سنیئر صحافی حسن کمال،خلیل زاہد ،سرفراز آرزو،جاوید جمال الدین ،سماجی کارکن یوسف لکڑا والا،ڈاکٹر ایم اے پاٹنکر ،صنعت کار وی کے شریف،فاروق سوداگر،آئی ٹی ماہر فیصل فاروقی ،انجمن اسلام کے ٹرسٹی عقیل حفیظ اور دیگر عمائدین اور معززین شریک ہوئے اور اے ایم یو اور مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال کیا ۔

اے ایم یو کے مزید مراکز اب ممکن نہیں ، تعلیم کی ترقی کیلئے سب متحد ہو کر کریں کام : وائس چانسلر طارق منصور

علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی: فائل فوٹو۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں تین اے ایم یو مراکزبہار میں کشن گنج،کیرالا میں ملالم پورم اور مغربی بنگال میں مرشد آباد میں واقع ہیں اور فی الحال مہاراشٹر کے ممبئی اور اورنگ آباد میں مراکز کھولنے کے منصوبے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ حکومت کی طرف سے اس ضمن میں مثبت رُخ نظر نہیں آرہا ہے اور ان سابقہ مراکز کے لیے منظورشدہ فنڈ 370کروڑ میں سے صرف 120کروڑروپے ہی جاری کیے گئے ہیں۔ان مراکز کا قیام سیاسی اثر میں کیا گیا اور طلباءکی کمی کا ایچ آرڈی منسٹری ہمیشہ رونا رورہی ہے ۔ سابق وزیر سمرتی ایرانی نے ان مراکز پر اعتراض کیا تھا ،لیکن موجودہ وزیر پرکاش جاوڈیکر نے غورکرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ،بقیہ فنڈ نہ دینے کے بارے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ پلاننگ کمیشن کے ساتھ ہی فنڈ کا خاتمہ ہوگیاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز