مسلمانوں کیلئے قبرستان کے مطالبہ کو لے کر 1400 کلومیٹر کے پیدل سفر پر نکلے انل سنہا

Apr 27, 2017 10:49 PM IST | Updated on: Apr 27, 2017 10:55 PM IST

اجمیر(ابھیجیت دوے ) ملک میں بدعنوانی کے خلاف انقلاب لانے والے انا ہزارے کے گاؤں رالیگن سدھی کے پڑوس سے اب ایک نئی آواز اٹھی ہے ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکساں حقوق کی مانگ کو لے کر مہاراشٹر کے الہاس نگر کا ایک غیر مسلم سڑکوں پر نکل پڑا ہے، جس نے مسلمانوں کو قبرستان کے لیے زمین دلانے کے لئے اپنی آواز بلند کی ہے ۔ مہاراشٹر اور مرکز میں بی جے پی حکومت کی نیند اڑانے کے لئے 52 سال کے انل سنہا اخلاق شیخ کے ساتھ دہلی تک کے پیدل سفر پر نکلے ہیں ۔

تیزدھوپ میں 1400 کلومیٹر کا پیدل سفر ، سننے میں جتنا مشکل لگتا ہے، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے ، لیکن پاؤں میں چھالے اور سوجن کے باوجود مہاراشٹر کے الہاس نگر سے شروع ہوا یہ سفر آدھے سے زیادہ پورا کرتے ہوئے اب خواجہ غریب نواز کی شہر اجمیر پہنچ چکا ہے۔ وزیر اعظم مودی سے ملنے کی آس میں دو دوست اپنا سارا دکھ بھول چکے ہیں۔ 52 سال کے انل سنہا اپنے بچپن کے دوست اخلاق شیخ کے ساتھ ایک ہی مقصد کو لے کر زندگی کی سب سے بڑا جدوجہد کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کیلئے قبرستان کے مطالبہ کو لے کر 1400 کلومیٹر کے پیدل سفر پر نکلے انل سنہا

مقصد ہے کہ کسی طرح ان کی تحصیل الہاس نگر کے مسلمانوں کو مرنے کے بعد دفن کے لئے دو گز زمین میسر ہو جائے۔ سننے میں آپ کو یہ بات بڑی عجیب لگ سکتی ہے لیکن آزاد ہندوستان میں شاید پانچ لاکھ کی آبادی والا الہاس نگر اکلوتا ایسا شہر ہو گا، جہاں مسلمانوں کے اپنوں کو دفن کرنے کے لئے قبرستان نہیں ہے۔ علاقے کے مسلم سماج کے لوگ الہاس نگر پالیکا سرحد پار کر دوسری تحصیل میں جاکراپنوں کو سپرد خاک کرتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ معاشرے نے حکومت انتظامیہ سے اس ضمن میں مطالبہ نہ کیا ہو ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک ان کا مطالبہ پوری نہیں ہو سکا ۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ اپنے شہر سے دور جہاں مردوں کو دفن کرنے جاتے ہیں ، توقبر کھودتے وقت زمین کے نیچے سے پہلے ہی دفن کی گئی لاش باہر نکل آتی ہے ۔ تمام کوششوں کے بعد آخر کار ان دو دوستوں نے اب پی ایم مودی سے ملاقات کر کے اپنے شہر میں قبرستان کے لئے زمین الاٹ کرنے کے مطالبہ کو لے کر 14 مارچ سے پیدل سفر شروع کیا ہے ۔

anil sinha (3)

یہ دونوں دوست اپنے دم پر ہی اس مشن پر نکلے ہیں ۔ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا ساتھ نہیں لیاہے اور نہ ہی کسی ادارے یا گروپ سے کسی طرح کی مدد ۔ گھر کا پیسہ لگا کردونوں 1400 کلومیٹر کے اس سفر کے منزل تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ان کا اب تک کا سفر بھی کافی مشکل رہا ، کہیں دور دور تک پینے کا پانی نہیں ملا ، تو کبھی سخت گرمی کے سبب اسپتال میں داخل تک ہونا پڑا۔ لیکن دونوں دوستوں نے ابھی تک ہمت نہیں ہاری ہے۔ رام رحیم کی مثال بنے دونوں دوست ابھی کچھ دنوں سے اجمیر میں ہیں ۔ پیروں میں چھالے پڑ جانے کی وجہ سے تو تھوڑا آرام کررہے ہیں ۔ دونوں نے خواجہ غریب نواز کے دربار میں سر نگوں ہو کردعا بھی مانگی ہے کہ حکومت الا س نگر میں ڈیڑھ سے دو لاکھ کی تعداد میں رہ رہے مسلمانوں کی اذیت کو سمجھتے ہوئے انصاف کرے ۔

anil sinha (2)

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز