مہاراشٹر حکومت نے تین سال فرقہ پرستی میں اضافہ کیا: محمد عارف نسیم خان

Nov 01, 2017 03:23 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 03:23 PM IST

ممبئی۔  مہاراشٹر کی بی جے پی قیادت والی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر ریاست کے سابق اقلیتی امور وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے اسے حکومت کی جانب سے فرقہ پرستی میں اضافہ کرنے کی مسلسل کوششیں قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ اس تین سالہ دور اقتدار میں ریاستی حکومت کا رویہ اقلیت بالخصوص مسلم مخالف رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت والی بھاجپائی حکومت اقتدار میں آئی ہے اس نے اقلیتوں کی فلاح کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں یہاں تک کہ سابقہ کانگریس حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے اسکیمیں چلائی تھیں اسے نافذ کرنے اور جاری کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

نسیم خان نے مزید کہا کہ مسلم مسائل سے چشم پوشی کرنے والے ریاستی حکومت کو ممبئی ہائی کورٹ نے مسلم ریزرویشن کو تعلیمی معاملات میں نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن اسے آج تک اسے نافذ نہیں کیا گیا اور مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھا گیا ۔

مہاراشٹر حکومت نے تین سال فرقہ پرستی میں اضافہ کیا: محمد عارف نسیم خان

کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان: فائل فوٹو۔

سابق وزیر نے ریاست میں فرقہ وارانہ واقعات میں ہونے والے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ۱۹۴۷ سے قبل جس طرح سے ملک کی عوام کو انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑی تھی اور قربانیاں دینی پڑی تھی کچھ اسی طرز پر آج ریاست کے عوام کو فرقہ پرستی کو فروغ دینے والی حکومت کے خلاف کمربستہ ہونا پڑے گا تاکہ ریاست کی گنگا جمنا تہذیب قائم و برقرار رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز