یہاں ٹیچروں نے سرکاری اردو اسکول کو اپنے خرچ سے بنایا ڈیجیٹل اسکول

May 10, 2017 08:44 PM IST | Updated on: May 10, 2017 08:44 PM IST

آکولہ (قمر قاضی) اردو اسکولی کی خستہ حالی سے تو آپ بخوبی واقف ہیں ، لیکن شاید اب تصویر بدل رہی ہے ۔ مہاراشٹر کے آکولہ ضلع کے آکوٹ میں واقع اردو اسکول کو اساتذہ نے اپنے ذاتی خرچ سے پوری طرح سے ڈیجیٹل بنایا ہے۔ آکوٹ کے پسماندہ علاقہ میں واقع اردو اسکول کے ڈیجیٹل ہونے سے طلبہ اور سرپرستوں میں خوشی کی لہر ہے۔

نجی اداروں اورانگریزی میڈیم کی اسکولوں میں جدید تعلیمی وسائل کے ذریعہ طلبہ میں تعلیمی دلچسپی پیدا کی جا رہی ہے ۔ ترقی یافتہ اس دور میں جدید تعلیمی وسائل کے ذریعہ تعلیم دینےکا مقصد نئی نسل میں موجود ہمہ جہت صلاحیتوں کو ابھارنا ہوتا ہے ، لیکن یہ تمام تر سہولیات نامور اور بڑے اداروں میں مہیا کی جاتی ہیں اوران اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرپرستوں کو سالانہ ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں ، جس کی وجہ سے معاشی اعتبار سے کمزوراقلیتی طبقہ ان تمام تر سہولیات سے محروم نظر آتا ہے۔

یہاں ٹیچروں نے سرکاری اردو اسکول کو اپنے خرچ سے بنایا ڈیجیٹل اسکول

جدید تعلیمی وسائل تو چھوڑئے اردو اسکولوں میں تو بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔ تاہم مہاراشٹر کے آکوٹ نگر پریشد اسکول کے اساتذہ نے اردو میڈیم کے طلبہ کو جدید تعلیمی وسائل کے ذریعہ تعلیم دینے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے۔ آکوٹ کے پسماندہ علاقہ میں واقع نگر پریشد اردو اسکول نمبر پانچ کو اسی اسکول کے اساتذہ نے اپنے ذاتی خرچ سے ڈیجیٹل بنایا ہے۔ طلبہ کو ای لرننگ کے ذریعہ تعلیم دی جارہی ہے۔

اسکول کے پوری طرح سے ڈیجیٹل ہوجانے سے اسکولی طلبہ ہی نہیں بلکہ سرپرستوں میں بھی خوشی کی لہر ہے۔ طلبہ جدید تعلیمی وسائل کے ذریعہ ذاتی طور مشق کرنے میں دلچسپی دکھا رہیں ہے۔ اسکول میں ایسے کھلونے بھی ہیں ، جو طلبہ میں تعلیمی رغبت پیدا کرتے ہیں ۔

اسکول کو ڈیجیٹل بنانے میں اسکول کے معلمین کا اہم رول رہا ہے ۔ اساتذہ کا ماننا ہے کی اس ترقی یافتہ دور میں دوسری قوموں کے مقابل کھڑا ہونے کے لیے اس طرح کے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں ، جس کے لیے ہمارے تعلیمی یافتہ اور معاشی اعتبار سے مستحکم طبقے کو آگے آنا چاہیے ۔ تاکہ قوم کے نونہال ای لرننگ کے ذریعہ تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل روشن بنائیں اورملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز