اورنگ آباد انکاؤنٹر کیس میں چاروں مسلم ملزمان دہشت گردی کے الزام سے بری

Oct 04, 2017 05:42 PM IST | Updated on: Oct 04, 2017 05:42 PM IST

 اورنگ آباد۔ اورنگ آباد کے حمایت باغ انکاونٹر کیس میں خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کردیا ہے ۔ عدالت نے چاروں مسلم ملزمان پر سے یو اے پی اے ایکٹ کو ہٹا دیا ساتھ ہی دہشت گردی کے الزام کو بھی خارج کر دیا ہے۔ تاہم دو ملزمان کو سی آر پی سی کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ جمعیت علما ہند محمود مدنی گروپ نے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔ نیز اس نے دو ملزمان کو انصاف دلانے کے لیے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 سنہ 2012 میں 26 مارچ کو اورنگ آباد میں پہلی مرتبہ انکاؤنٹر کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ اے ٹی ایس کی اس کارروائی میں خلیل قریشی عرف اظہر کی موت ہوگئی تھی جبکہ دیگر ایک زخمی ہوا تھا ۔ اے ٹی ایس نے یہ کارروائی اس وقت کے ایس پی نوین چندر ریڈی کی قیادت میں انجام دی تھی ۔  اس معاملے کے دیگر ملزمان کی گرفتاریاں بعد میں عمل میں آئیں۔ جانچ ایجنسیوں نے ملزمان پر دہشت گردی اور سرکاری اہلکاروں پر جان لیوا حملے کے الزامات عائد کیے تھے ۔ اس معاملے میں ایک پولیس اہلکار شیخ عارف زخمی ہوا تھا ۔

اورنگ آباد انکاؤنٹر کیس میں چاروں مسلم ملزمان دہشت گردی کے الزام سے بری

عدالت نے چاروں مسلم ملزمان پر سے یو اے پی اے ایکٹ کو ہٹا دیا ساتھ ہی دہشت گردی کے الزام کو بھی خارج کر دیا ہے۔

پولیس کا دعوٰی تھا کہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔  یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا ۔ پولیس پرفرضی انکاونٹر کا الزام بھی لگا ۔ پانچ سال تک چلی قانونی لڑائی میں خصوصی عدالت نے چاروں ملزمان کو دہشت گردی اور یو اے پی اے سے بری کردیا۔ جمعیت علماء ہند کے وکیل نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

پولیس کا دعوٰی تھا کہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔  یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا ۔ پولیس کا دعوٰی تھا کہ ملزمان کی فائرنگ میں پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا ۔

جمعیت علماء ہند کے ریاستی صدر حافظ ندیم صدیقی نے حمایت باغ انکاؤنٹر معاملے میں وکلا کی ٹیم کی خوب ستائش کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ناکافی ثبوتوں کی بناء پر ملزمین پر سے دہشت گردی کا الزام خارج کیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے میں مہلوک خلیل قریشی اور دیگر ملزمان کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز