اورنگ آباد کے واحد یونانی دواخانہ کو شہر بدر کرنے کی کوشش، ایم آئی ایم کا شدید ردعمل کا اظہار

Jan 15, 2017 03:22 PM IST | Updated on: Jan 15, 2017 03:25 PM IST

اورنگ آباد : گزشتہ 64 برسوں سے اورنگ آباد شہر کے قلب میں واقع ضلع پریشد کےتحت چلنے والے یونانی دواخانے کو شہر سے پچاس کلو میٹر دو منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ضلع پریشد کے اس اقدام پر لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ ایم آئی ایم رکن اسمبلی امتیاز جلیل نے بھی دواخانہ کی منتقلی کی سخت مخالفت کی ہے ۔

اورنگ آباد شہر کی قدیم مسلم اکثریتی بستی میں واقع ضلع پریشد کا یہ یونانی دواخانہ سن 1953 میں قائم کیا گیا تھا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک اس دو خانے میں محض دو روپئے فیس پر مریضوں کا علاج کیا جاتا رہا ہے۔ دواخانے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تمام امراض کا علاج کیا جاتا ہے ۔ یونانی دواخانہ قلب شہر میں ہونے کی وجہ سے دواخانہ کےاو پی ڈی سیکشن میں غریب اور ضرورتمند مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہر مہینےڈھائی ہزار سے زیادہ مریض اس یونانی دواخانے سے مستفید ہوتے ہیں ۔

اورنگ آباد کے واحد یونانی دواخانہ کو شہر بدر کرنے کی کوشش، ایم آئی ایم کا شدید ردعمل کا اظہار

دواخانےکا او پی ڈی سیکشن صبح دس بجے سے ساڑھے تین بجے تک کھلا رہتا ہے، جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دور دراز کے مقامات سے بھی مریض یونانی اسپتال پہنچ کر اپنا علاج کرواتے ہیں۔تاہم اب اس دواخانہ کو منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایم آئی ایم رکن اسمبلی امتیاز جلیل اور مقامی سماجی کارکنوں نے اس کی منتقلی کی شدید مخالفت کی ہے ۔ ایم آئی ایم لیڈر نے اس سلسلہ میں ضلع پریشد کے سی ای او سے بھی باضابطہ طور پر اپنا احتجاج درج کرایا ہے ۔

اورنگ آباد شہر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس دواخانہ کو شاہ جہاں پور منتقل کردیا گیا تو شہر اور اطراف کے مضافات کے ہزاروں غریب افراد ایک بہترین سہولت سے محروم ہوجائیں گے ۔ ای ٹی وی ٹیم نے اس سلسلہ میں ضلع پریشد سی ای او راج کمار اردڑے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی ، لیکن سی ای او سےملاقات نہیں ہوسکی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز