بلا سودی بینکنگ کے لئے بہترین کارکردگی پربیت النصر کوعالمی سطح کے دواعزازات سے نوازا گیا

Oct 28, 2017 01:02 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 01:03 PM IST

ممبئی۔  بلا سودی بینکنگ کیلئے بہترین کارکردگی کے لیے معروف اسلامی بینکنگ کے ادارہ بیت النصر کو اس باربھی کولمبو، سری لنکا میں اسلامک فائنانس فورم آف ساؤتھ ایشیاء (آئی ایف ایف ایس اے) کے زیرِ اہتما م جنوبی ایشیا میں ہونے والی غیر سودی مالیاتی نظام کی کارکردگی کی پذیرائی و ستائش کے لئے ایک روزہ کانفرنس میں سال 2017 میں بہترین اسلامی مصنوعات اور مشارکہ کی بنیاد پر کاروباری قرضہ جات اور مائکرو فائنانس کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے لئے بہترین ادارہ کے زمرہ کے لئے مندرجہ بالا اعزازات سے نوازا گیا ۔ بیت النصر کی جانب سے مینیجنگ ڈائریکٹر سلیم قاضی نے اس تقریب میں شرکت کی اور ادارہ کو ملنے والے دو ایوارڈ حاصل کئے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مطلع کیا کہ بیت النصر کو اس بار سال 2017 میں بہترین اسلامی مصنوعات اور مشارکہ کی بنیاد پر کاروباری قرضہ جات اور مائکرو فائنانس کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے لئے بہترین ادارہ کے زمرہ کے لئے مندرجہ بالا اعزازات سے نوازا گیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مندرجہ بالا کانفرنس جن بنیادی مقاصد کو لیکر گزشتہ دو برس سے منظم طریقہ سے منعقد کی جارہی ہے اس سے سارک ممالک کا بلا سودی مالیاتی نظام بلا شبہ فیضیاب ہو رہا ہے ۔ اور منتظمین نے اس بات کابھی اعلان کیا ہے کہ انشااللہ آئندہ دنوں یہ کانفرنس دیگر ممالک میں بھی منعقد کی جائینگی ۔ عین ممکن ہے کہ ممبئی، ہندوستان میں ہی 2018 کی آئی ایف ایف ایس اے کانفرنس کا انعقاد ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتظمین سارک ممالک کے غیر سودی مالیاتی نظام سے جڑے تمام اداروں پر مشتمل ایک ایسوسی ایشن کے قیا م کا ارادہ رکھتے ہیں جسے انشا اللہ جلد ہی عملی جامہ پہنایا جائے گا ،جس سے ان اداروں کا آپسی تال میل و ربط سہل ہوگا نیز باہمی تعاون کی راہیں ہموار ہونگی۔ مذکورہ کانفرنس میں برصغیر سے اسلامی معاشیات کے ماہرین نے شرکت کی ۔

بلا سودی بینکنگ کے لئے بہترین کارکردگی پربیت النصر کوعالمی سطح کے دواعزازات سے نوازا گیا

بیت النصر: فائل فوٹو۔

واضح رہے کہ یہ تقریب سارک ممالک میں ہونے والے غیر سودی مالیاتی تحریک کے کام کاج کا جائزہ و تجزیہ نیز غور و فکر کرنے کی غرض سے ہر سال منعقد کی جاتی ہے ۔ امسال اس کانفرنس میں مالدیپ ، سنگاپور ، بنگلہ دیش، پاکستان، ماریشش، ہندوستان و دیگر کئی ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں نے ملکی سطح پر اپنی کارکردگی و کوششوں کا گوشوارہ پیش کیا ۔ میزبان سری لنکا کی غیرسرکاری تنظیم یوٹی او ایجوکنسلٹ پرائیوٹ لمیٹڈ نے یہ تقریب نہایت عمدگی اور پیشہ و ارانہ انداز میں منعقد کی ۔ ہندوستان سے کانفرنس میں بیت النصر کے علاوہ ٹاٹا میوچول فنڈ ممبئی،آکٹاویر ٹیکنالوجی ممبئی، جن سیوا ممبئی، سہولت مائکرو فائنانس سوسائٹی دہلی ، رہبر فائنا نشیل کنسلٹینٹ بنگلور و دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی،جن میں ڈاکٹر شارق نثار ،اسلم خان، ارشد اجمل اور مدثر بیگ شامل تھے۔ بیت النصرکے ڈائریکٹرآپریشنس عبدالرشید شیخ کے مطابق ادارہ کے احیا ء کے بعد سے ہونے والی غیر معمولی ترقی اور ملک میں دیگر ہم خیال اداروں کے ساتھ مل کر اس تحریک کو مظبوطی دینے کی سمت میں جو عملی کردار ادارہ نے انجام دیا ہے الحمداللہ اس کی سند گویا ان ایوارڈس کی شکل میں حاصل ہوئی ہے۔

سلیم قاضی نے کہا کہ ادارہ مسلسل ترقی پذیر ہے اور اب تک اس کی سات شاخیں ممبئی میں دوبارہ شروع کی جا چکی ہیں ۔2014 سے اب تک کئی کروڑ روپئے کا سرمایہ نئے ممبران و کھاتے داروں نے جمع کرایا ہے اسی طرح ادارہ نے لگ بھگ 13؍ کروڑ روپئے کے نئے قرضہ جات تقسیم کئے ہیں۔ ادارہ کے اثاثہ جات اطمینان بخش ہیں اور سالانہ22؍ کروڑ کا ٹرن اوور اس بات کا ضامن ہے کہ بیت النصر اپنے بنیادی اصولوں کی حصولیابی کے لئے صحیح رفتار سے پیش قدمی کر رہا ہے ۔ عوام الناس اور ممبران کا بھر پور تعاون و حمایت حاصل کر ادارہ موجودہ سفر طے کرنے میں کامیاب رہا ہے اور آئندہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے منظم منصوبہ بندی تشکیل دی جاچکی ہے۔ جس کے نتیجے انشاء اللہ آنے والے دنوں میں اعداد و شمار کی شکل میں منظر عام ہونگے ۔

بقول عبدالرشید شیخ بیت النصر نے ممبران کے گزشتہ بقایاجات کے مد میں اب تک تقریباً 4؍ کروڑ روپئے کی خطیر رقم ادا کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ علاوہ ازیں بیت النصر نے اپنے ممبران کیلئے مختلف قسم کی ڈپازٹ اور قرضہ جات کی اسکیمیں(خدمات) مہیا کرائی ہے جس میں ادارہ کی حج و عمرہ ڈپازٹ اسکیم بطور خاص قابل ذکر ہے نیز ادارے کے ذریعہ مسلسل نئے نئے اسلامی مصنوعات متعارف کرائے جارہے ہیں ، جس میں آئی ایف ایف ایس اے انعام یافتہ مشارکہ کی طرز پر دئے جانے والے کاروباری قرضہ جات کا شمار ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز