میں صرف انصاف چاہتی تھی انتقام نہیں ، قصورواروں کیلئے موت کی سزا میں خواہاں نہیں ہوں : بلقیس بانو

گجرات میں 2002 کے فسادات کے دوران اجتماعی آبروریزی کی شکار اور اپنے 14 رشتہ داروں کے قتل کے ہولناک حادثے کی چشم دید گواہ بلقیس بانو نے آج کہا کہ وہ اس معاملے کے قصورواروں کے لئے پھانسی کی سزا کی خواہاں نہیں ہیں

May 11, 2017 09:39 PM IST | Updated on: May 11, 2017 09:39 PM IST

احمد آباد : گجرات میں 2002 کے فسادات کے دوران اجتماعی آبروریزی کی شکار اور اپنے 14 رشتہ داروں کے قتل کے ہولناک حادثے کی چشم دید گواہ بلقیس بانو نے آج کہا کہ وہ اس معاملے کے قصورواروں کے لئے پھانسی کی سزا کی خواہاں نہیں ہیں۔ بانو کے ساتھ یہ حادثہ اس وقت ہوا تھا جب وہ 19 برس کی عمر میں داخل ہوئی تھیں اور پانچ ماہ کے حمل میں وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تین مارچ 2002 کو اپنے آبائی ضلع داهود کے ليم كھیڑا علاقے سے فسادات کی خوف سے جان بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے حکم پر 2003 میں سی بی آئی کو سونپی گئی تھی۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کل 20 میں سے 12 ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔ایک ملزم کی سماعت کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پانچ پولیس والوں اور دو ڈاکٹروں کو بری کر دیا گیا تھا۔گزشتہ چار مئی کو ممبئی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت میں مجرم قرار دئے گئے 11 (ایک مجرم قرار دئے گئے پولیس

میں صرف انصاف چاہتی تھی انتقام نہیں ، قصورواروں کیلئے موت کی سزا میں خواہاں نہیں ہوں : بلقیس بانو

فائل فوٹو

اہلکار کی بھی موت ہو چکی ہے)کی سزا بحال رکھتے ہوئے بری کئے گئے پانچ پولیس اہل کاروں اور دو ڈاکٹروں کو بھی بدنیتی کے ساتھ ثبوتوں سےچھیڑ چھاڑ کرنے کا مجرم ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ بلقیس بانو نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ صرف انصاف چاہتی تھیں، انتقام نہیں۔وہ موت کی سزا نہیں چاہتیں۔ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ان کے شوہر یعقوب رسول نے کہا کہ وہ اس معاملے میں معاوضہ (آبروریزی متاثرہ کو ملنے والے قانونی معاوضے)کے لئے ریاستی حکومت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔انہوں نے تاہم الزام لگایا کہ گجرات حکومت نے پہلے انہیں کبھی کسی طرح کی مدد نہیں کی۔روتے ہوئے یعقوب نے کہا کہ انہیں گجراتی ہونے کے باوجود ممبئی میں مقدمہ لڑنا پڑا، گزشتہ 15 سال میں 15 بار گھر تبدیل کرنا پڑا اور بچوں کی پڑھائی بھی ٹھیک سے نہیں ہو پائی۔

واضح رہے کہ مذکورہ حادثہ میں بانو کی تین سال کی ایک بیٹی کی بھی موت ہو گئی تھی جبکہ اس کے پیٹ میں رہی لڑکی ابھی دسویں میں زیر تعلیم ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران بانو کے مقدمے میں سی بی آئی کے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر رہے آر کے شاہ اور ان کی مددگار پراسکیوٹر نینہ بین بھٹ بھی موجود تھیں ۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ یہ ایک بہت ہی مشکل مقدمہ تھا جس میں صرف بانو واحد چشم دید گواہ تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس مقدمے کو نربھیا کیس سے موازنہ کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ تمام فوجداری مقدمات مختلف ہوتے ہیں ، ان کا ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز