‘عورت بولی تو جھوٹ بولی اور جو نہیں بولی تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں بولی’– News18 Urdu

‘عورت بولی تو جھوٹ بولی اور جو نہیں بولی تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں بولی’

اب تک عورتیں اسلئے نہیں بولی تھی کیوں کہ اب تک وہ اکیلی تھیں۔ ان کے ساتھ چھیڑ خانی ہوتی تو سماج ان کے کپڑوں کو بیورا پوچھتا۔ کیا پہنا تھا تم نے، کیسے دیکھا، کیسے چلیں، تم گئی ہی کیوں، تم وہاں تھی ہی کیوں، تمہارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟

Jan 11, 2019 05:01 PM IST | Updated on: Jan 11, 2019 05:49 PM IST

آلوک ناتھ پر جنسی استحصال کا الزام لگا۔ آلوک ناتھ سر جھکاکر عدالت گئے اور سر اٹھا کر عزت سے لوٹ آئے۔ عدالت نے پانچ لاکھ روپئے کی سکیورٹی پر انہیں باعزت ضمانت دے دی۔ ونیتا نندا بھی عدالت گئیں۔ وہ بھی سر جھکاکر ہی گھی تھیں۔ شرم سے نہیں، تکلیف سے۔ لیکن جتنی تکلیف سے گئی، اس سے کہیں گہری تکلیف سے سر جھکاکر واپس لوٹ آئیں۔

حادثہ تقریباََ 20 سال پرانا ہے۔ وہ 20 سال تک خاموش رہیں۔ ڈپریشن میں گئیں، لیکن عدالت نہیں گئیں۔ کام پر اثر پڑا، کمپنی ڈوب گئی، پیسے ختم ہو گئے، دوستوں کا ہاتھ تھاما، لیکن عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ اور آج 20 سال بعد عدالت کہہ رہی ہے کہ 20 سال قبل نہیں کھٹکھٹایا تو بات سچی نہیں لگتی، الزام جھوٹا ہو سکتا ہے۔

‘عورت بولی تو جھوٹ بولی اور جو نہیں بولی تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں بولی’

عدالت کہہ رہی ہے کہ 20 سال خاموش رہو تو سچ جھوٹ ہو جاتا ہے۔ قانون جو بھی سوچے لیکن ہم کیا سوچ رہے ہیں اس بارے میں کی کوئی 20 سال آخر کیوں چپ رہا؟ اور وہ ہزاروں عورتیں جو اس  سے بھی زیادہ سالوں سے چپ ہیں، وہ کیا سوچ رہی ہیں اس وقت۔ ایک دن اگر حقیقتاً وہ بول اٹھیں تو کوئی ان کے سچ پر یقین نہیں کرےگا کیوں کہ سچ 20 سال پرانا ہے۔ ونیتا نندا نے 20 سال بعد بھی عدالت کا دروازہ اسلئے نہیں کھٹکھٹایا تھا کہ 20 سال بعد ان کواس بات کا احساس ہوا۔ بلکہ 20 سال بعد اسلئے کھٹکھٹایا تھا کیوں کہ اچانک اس ملک میں ہوا کا رخ بدل گیا تھا۔ ونیتا نے دیکھا کہ جیسے اور بہت- خواتین لڑکیاں سرے عام سب کے سامنے آکر بولنے لگی تھیں کہ کب کس کس مرد نے کیا کہا اور کیسے ان کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔ وہ کب کب اور کس کس طرح سے جنسی استحصال کی شکار ہوئی ہیں۔

جو صدیوں تک خاموش رہیں، دبائی گئیں، اب وہ اچانک بول رہی تھیں۔ اب وہ کھل کر بول رہی تھیں۔ ایک سے دوسرے کو طاقت ملی، دوسرے سے تیسرے کو۔ پھر ساری آوازیں مل کر ایک مہم میں بدل گئی۔ اب تک عورتیں اسلئے نہیں بولی تھی کیوں کہ اب تک وہ اکیلی تھیں۔ ان کی پرورش نے، خاندان نے، سماج نے، لوگوں نے ان کے ساتھ ہونے والی ہر غلط بات کی ذمہ داری ان کے ہی سر ڈالی تھی۔ مرد کی ہر غلطی کا انہیں ہی ذمہ دار مانا گیا۔ ان کے ساتھ چھیڑ خانی ہوتی تو سماج ان کے کپڑوں کو بیورا پوچھتا۔ کیا پہنا تھا تم نے، کیسے دیکھا، کیسے چلیں، تم گئی ہی کیوں، تم وہاں تھی ہی کیوں، تمہارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا۔

Loading...

جہاں تک معاملہ میں دیر سے ایف آئی آر کرنے کی بات ہے تو شکایت میں بتایا گیا ہے کہ ونیتا نے اپنے دوستوں سے اس معاملہ میں مشورہ کیا تھا اور ان کے دوستوں نے مشورہ دیا تھا کہ آلوک ناتھ ایک بڑے اسٹار ہیں اور تمہاری ساری کمپنی پہلے ہی بند ہو چکی ہیں، اسلئے کوئی اس کہانی پر یقین نہیں کرےگا۔ اسلئے شکایت درج نہیں کروائی۔ اسلئے آن ریکارڈ کچھ نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ شکایت کرنے والی خاتو کو دھمکی مل رہی تھی۔ ایسے میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاتون نے شکایت اپنے فائدہ کے لئے درج نہیں کروائی تھی‘‘۔

اس سب کا لبِّ لباب کیا ہے؟

عورت بولی تو جھوٹ بولی

عورت نہیں بولی تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں بولی

ایک سال پہلے جب ہالی ووڈ میں می ٹو شروع ہوا اور سالوں پرانے معاملہ سامنے آئے تو اوپرا ونفرے نے کہا تھا، ’’ ہماری والدہ نہیں بولیں کیوں کہ انہیں بچے پالنے تھے، گھر چلانا تھا، بل بھرنے تھے۔ وہ اسلئے نہیں بولیں کیوں کہ انہیں زندہ رہنا تھا اور وہ زندہ رہیں تاکہ آج ہم بول سکیں‘‘۔

Loading...