ممبئی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ، عبادت گاہوں ، ریلوے اسٹیشن اور فٹ اووربرج پر پھیری کی اجازت نہیں

Nov 01, 2017 05:58 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 05:58 PM IST

ممبئی :  بامبے ہائی کورٹ نے آج یہاں اپنے ایک حکم میں بی ایم سی کے ذریعہ پھیری والوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو تقویت بخشی ہے اورپھیری والوں کی ایک عرضداشت کو مسترد کردیا ہے ،جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شہر میں ہر جگہ جگہ پھیری کا دھندہ کرنے دیا جائے ۔جسٹس بھوشن گوئی اور جسٹس مرکنڈے کرنک نے کہا کہ انتظامیہ کے مخصوص کیے جانے والے علاقوں میں ہی پھیری کا دھندہ کیا جاسکتا ہے ۔

ججوں نے مزید کہا کہ ہاکرس عبادت گاہوں اورتعلیمی اداروں اورریلوے اسٹیشنوں کے نزدیک اور فٹ اوورپل پر پھیری کی منظوری نہیں دی جاسکتی ہے جبکہ عدالت نے کہاہے کہ حکومت کو خصوصی ہاکنگ قانون کے تحت اس سلسلے میں سروے کرایا جائے اور شہروں میں پھیری کے دھندے کو قانونی حیثیت دینے کے بارے میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔اس طرح عدالت نے بی ایم سی اور ریاست کی میونسپل کارپوریشنوں کے ذریعے پھیری والوں کے خلاف کارروائی پر مہرثبت کردی ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ، عبادت گاہوں ، ریلوے اسٹیشن اور فٹ اووربرج پر پھیری کی اجازت نہیں

واضح رہے کہ حال میں شہری انتظامیہ اور چند علاقائی پارٹیوں کے ذریعے پھیری والوں کے خلاف مہم کے پیش نظر کانگریس لیڈر سنجے نروپم اور ہاکرس ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کیا تھا ۔واضح رہے کہ ہاکرس ایکٹ کے تحت پھیری والوں کو یکم مئی 2014تک ہاکرس کو تحفظ دینے کا حکم دیا تھا۔بی ایم سی کے مطابق ممبئی میں 99ہزار منظورشدہ پھیری والے ہیں۔جبکہ عرضی گزارکے مطابق مئی 2014تک ان کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کی گئی ہے۔بی ایم سی اہم تنصیبات ،ریلوے اسٹیشنوں اور تعلیمی اداروں کے آس پاس واقع ہاکرس کے خلاف کارروائی کوحق بجانب قراردیتی ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ کے ایک حکم نامہ کے تحت بی ایم سی کو سروے کے بعد ہاکنگ اورنان ہاکنگ زون تشکیل دینے کے لیے ہدایت دی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز