اورنگ آباد : مساجد اور درگاہوں کے انہدام پر روک ، وقف بورڈ کی عرضی پر ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ

Aug 09, 2017 11:43 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 11:43 PM IST

ممبئی : ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے آج یہاں تاریخی شہر اورنگ آباد کی وقف بورڈ کی ملکیت والی 138جائیدادوں جس میں بیشتر مساجد اور درگاہیں شامل ہیں اس کے انہدام پر عارضی روک لگا دی ہیں۔ جسٹس ایس ایس کھیمکر اور جسٹس این ڈبلیو سامرے پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آج یہ فیصلہ ریاستی وقف بورڈ کے چیئرمین ایم ایم شیخ کی جانب سے دائر کردہ عرضداشت کے سماعت کے دوران دیا جس میں اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تیار کی گئی اس فہرست کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں متذکرہ جائیدادوں کے انہدام کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

عدالت میں وقف بورڈ کے وکلا سعید شیخ اور دیگر نے عدالت کو بتلایا کہ عوامی مقامات پر غیر قانونی مذہبی مقامات کے تعلق سے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا تھا اس فیصلے کی رو سے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے ایک ہزار ایک سو ایک مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ا س سلسلے میں کارپوریشن نے نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

اورنگ آباد : مساجد اور درگاہوں کے انہدام پر روک ، وقف بورڈ کی عرضی پر ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ

عدالت کو بتلایا گیا کہ جن مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس میں سیکڑوں برسوں پرانی و آثار قدیمہ کے زمرے میں آنے والی وقف بورڈ کی 138مساجد و درگاہیں بھی شامل ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کارپوریشن نے جب ا س ضمن میں اعتراضات اور مشورہ طلب کیئے تھے تب وقف بورڈ نے ان جائیدادوں کے انہدام کے تعلق سے اعتراضات داخل کئے تھے اور اس کے قدیم و قانونی ہونے کے شواہد پیش کیئے تھے لیکن اس کے باوجود کارپوریشن نے ان اعتراضات پر کوئی فیصلہ سادر نہیں کیا۔

وکلا ? نے عدالت کو مزید بتلایا کہ ریاستی وقف بورڈ حکومت مہاراشٹر کا ایک ادارہ ہے اور اس کے ماتحت آنے والی تمام جائیدادیں قانونی حیثیت رکھتی ہیں جس میں کرانتی چوک کی مسجد ، شاہ گنج مسجد اور دیگر بھی شامل ہیں جنہیں آثار قدیمہ نے اپنی فہرست میں شامل کر رکھاہے لہذا وہ کیسے غیر قانونی ہو سکتی ہے۔ دو رکنی بینچ نے وقف بورڈ کے وکلا میونسپل کارپوریشن کے وکلااور دیگر فریقین کی سماعت کے بعد ان عبادت گاہوں کے انہدام پرعارضی روک لگا دی اور میونسپل اکارپوریشن کو ہدایت جاری کی کہ وقف بورڈ کی جانب سے داخل کئے گئے اعتراضات اور مشوروں کے تعلق سے پہلے فیصلہ کیا جائے اس کے بعد کوئی کارروائی کی جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز