بامبے ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ، اقلیتی اداروں میں پسماندہ طبقات کیلئے نشستیں محفوظ کرنا غیر قانونی

Nov 11, 2017 10:24 AM IST | Updated on: Nov 11, 2017 10:24 AM IST

ممبئی : بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں ریاست کے اقلیتی اداروں میں پسماندہ طبقات کے لئے نشستوں کو محفوظ رکھے جانے کو غیر قانونی قرار دیا اور اس ضمن میں ممبئی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کئے گئے ایک سرکیولر کو بھی مسترد کئے جانے کا حکم صادر کیا۔ جسٹس امجد سیو اور جسٹس ایم ایس کرتک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ فیصلہ گزشتہ کل صادر کیا اور کہا کہ 2006میں ریاستی حکومت نے ریزرویشن کے تعلق سے جو پالیسی مرتب کی تھی اور اس میں جو ترمیم کی تھی اب عدالت عظمی کے حکم سے اقلیتی ادارے اس سے مستثنی قرار دیئے گئے ہیں۔2001میں ممبئی یونیورسٹی نے ایک سرکیولر جاری کیا تھا جس کے رو سے اقلیتی اداروں میں پچاس فیصد نشستیں پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ کئے جانے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ جس میں آرٹس، کامرس اور سائنس کالج شامل تھے۔یونیورسٹی کے اس احکامات کے خلاف ممبئی کے سینٹ زیویس کالج کے پرنسپل فادر جے ایم ڈائس نے مہاراشٹر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے ہمراہ ممبئی ہائی کورٹ میں عرض داشت داخل کر کے اسے چیلنج کیا تھا۔

انہوں نے عدالت کو یہ بتلایا تھا کہ اقلیتی اداروں کو کل نشستوں کا پچاس فیصد حصہ اقلیتی طلبا کے لئے مختص کئے جانے کا دستوری حق دیاگیا تھا لیکن بعد میں اس میں ترمیم کر کے اس پچاس فیصد کوٹے میں پسماندہ طبقات کو بھی شامل کر لیا گیا اور اقلیتی طلبا کے کوٹے میں پسماندہ طبقات کو بھی شامل کر کے احکامات جاری کئے گئے۔ 2002میں ممبئی ہائی کورٹ نے اس سرکیولر پر عبوری روک لگائی تھی اس کے بعد اس معاملے کی سماعت چلتی رہی گزشتہ دنوں بالآخر عدالت نے اس ضمن میں اپنا حتمی فیصلہ تمام فریقین کی بحث کو سننے کے بعد صادر کیا جس کے رو سے اقلیتی اداروں کو راحت حاصل ہوئی۔

بامبے ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ، اقلیتی اداروں میں پسماندہ طبقات کیلئے نشستیں محفوظ کرنا غیر قانونی

File image of Bombay high court

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز