مہاراشٹراسمبلی میں تیسرا مالیاتی بجٹ پیش، اقلیتوں کے بجٹ میں تخفیف

Mar 18, 2017 08:53 PM IST | Updated on: Mar 18, 2017 08:53 PM IST

ممبئی۔ آج یہاں مہاراشٹر اسمبلی میں کسانوں کی قرض معافی کے مطالبہ کے پیش نظر کانگریس اوراین سی پی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے گزشتہ کئی دنوں سے جاری احتجاج میں اس وقت شدت پیدا کردی جب ریاستی وزیر برائے مالیات سدھیر منگٹیوار نے ایوان نے تیسرا مالیاتی بجٹ پیش کیا ،حزب مخالف کی ہنگامی آرائی کے دوران ان کا احتجاج جاری رہا اور وزیرمملکت برائے مالیاتی دیپک کیسرکرنے قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی حکومت کاتیسرا بجٹ پیش کیا ۔جوکہ 4511کروڑخسارے کا بجٹ ہے۔اقلیتوں کے بجٹ میں تخفیف کرتے ہوئے 425کروڑسے 375کردیا گیا ہے۔ مہاراشٹر کا سال 2017-18 کا بجٹ ہفتہ کو پیش کیا گیا۔ وزیر خزانہ سدھیر منگٹوار نے اسمبلی میں دوپہر 2 بجے بجٹ پیش کیا ۔انہوں نے جیسے ہی بجٹ کی تقریر شروع کی، اپوزیشن جس میں کانگریس، این سی پی کے ارکان اسمبلی شامل ہیں نے کسانوں کی قرض معافی کرنے کی مانگ کو لے کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ کئی کانگریسی لیڈر کے ہاتھ میں حکومت مخالف پوسٹرتھے جوکہ اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اسمبلی اسپیکر نے رکن اسمبلی ششی کانت شندے اور جے کمار گور کا نام لے کر انہیں اپنی نشست پر بیٹھنے کے لئے کہا،لیکن یہ لوگ نعرے بازی کرتے رہے۔مراٹھی زبان کے فروغ کے لیے 17کروڑاور لاء اینڈ آرڈر کے لیے 1,041کروڑمقررکیے گئے ہیں۔

-18 2017بجٹ میں آبپاشی کے منصوبے کے لئے 233،8 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ریاست میں سڑکوں کی بہتری کے لئے000 7 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔جبکہ رامائی رہائشی منصوبہ بندی کے تحتدرج فہرست اور درج فہرست قبائل کے لئے 55ہزار گھروں کی تعمیرکی جائے گی اور اس منصوبہ کے لئے 500 کروڑ روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آنگن باڑی میں بچوں کی غذائیت کے لئے 310 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر میں بندرگاہ ترقی کے لئے 70 کروڑ روپے،وزیراعلیٰ گرام سڑک کی منصوبہ بندی کے لئے 640،1 کروڑ روپے اور وزیر اعظم گرام سڑک کی منصوبہ بندی کے لئے 570 کروڑ روپے دینے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی ای جی جی ایس منصوبہ بندی کے تحت کنوؤں، تالاب کے لئے 225 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مہاراشٹراسمبلی میں تیسرا مالیاتی بجٹ پیش، اقلیتوں کے بجٹ میں تخفیف

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ فڑنویس: فائل فوٹو

وزیر مالیات نے آبپاشی منصوبہ بندی کے لئے 1200 کروڑ روپے اور کرشنا۔مراٹھواڑا منصوبے کا پہلا مرحلہ پانی کی تقسیم اگلے 4 برسوں میں مکمل ہو جائے گا۔اس منصوبے کے لئے 250 کروڑ روپے کی خصوصی فراہمی کی جائے گی۔ وزیر اعظم زراعت سنچائی منصوبہ بندی کے تحت 26 منصوبوں کے لئے 812،2، کروڑ روپے مختص کرنیکا انہوں نے اعلان کیا ۔

منگٹوار نے کہاکہ محکمہ آبی وسائل کے لئے233،8 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور 2021 تک کسانوں کی پیداوار کی حد کو دوگنا کرنے کے لئے زرعی علاقے میں سرمایہ کاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے مہاراشٹر میں آئی ٹی آئی کی مدد کے لئے 99 کروڑ روپے الگ رکھنے کی بات کہی ہے۔ کمیونٹی کاشتکاری، کسانوں کی ترقی اور کسان پیداواری کمپنیوں کے قیام کے لئے 200 کروڑ روپے الگ سے رکھے ہیں۔ کسانوں کو ا ن کی مصنوعات فروخت اور ذخیرہ کرنے کی سہولت کو بہتر بنانے اور متبادل منڈیوں کی ترقی کے لئے 50 کروڑ روپے الگ سے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مطلع کیا کہ نئے مجوزہ او بی سی کی وزارت کے لئے 384 ،2کروڑ روپے کا بجٹ طے کیا گیا ہے۔ ایک اہم ترین اعلان کرتے ہوئے وزیرمالیات نے کہاکہ ریاست میں میڈیکل کالجوں کی ترقی اور توسیع کے لئے 55 9 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے اور اورنگ آباد میں ایک کینسر ریسرچ سینٹر کے قیام کے لئے 126 کروڑ روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے۔جبکہ راجیو گاندھی صحت گرام منصوبہ بندی کا نام بدل کر ’مہاتما جوتی با پھلے جن روجوگہ منصوبہ بندی‘ کا نام دیا جائے گا۔ اس کی منصوبہ بندی کے لئے 316،1 کروڑ روپے کی رقم طے کی گئی۔

انہوں کہاکہ سمارٹ شہروں کے لئے 1600 کروڑ روپے کے منصوبے کی تجویز ہے۔شہر پنچایت اور سٹی کونسل علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے 1000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے ممبئی کے نقل و حمل کے نظام میں بہتری کے لئے میٹرو ریل منصوبے کے لئے 710 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ مراٹھواڑا اور ودربھ میں بجلی کی شرح میں صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے 000،1 کروڑ روپے الگ رکھا گیا ہے۔ پانی وسائل محکمہ کی طرف سے کئے گئے آبپاشی کے منصوبوں کے لئے 233،8 کروڑ روپے دیئے جارہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز