متنازع ٹویٹ کرکے روہت سردانا مشکل میں پھنسے ، مسلم اور عیسائی تنظیموں میں شدید غصہ ، متعدد کیس درج

ایک نجی ٹی وی چینل کے صحافی روہت سردانا کی طرف سے ایس درگا فلم کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام اور عیسائی مذہب کی قابل احترام خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ ٹویٹ کرنے کے پیش نظرمسلمانوں اور عیسائیوں میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے

Nov 23, 2017 11:44 PM IST | Updated on: Nov 23, 2017 11:44 PM IST

ممبئی: ایک نجی ٹی وی چینل کے صحافی روہت سردانا کی طرف سے ایس درگا فلم کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام اور عیسائی مذہب کی قابل احترام خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ ٹویٹ کرنے کے پیش نظرمسلمانوں اور عیسائیوں میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے ،روہت نے حضرت عائشہؓ ،حضرت فاطمہؓ اورحضرت مریم کا نام استعمال کیا جس کی وجہ بہت سی مسلم تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ روہت سردانا کی ٹویٹس پر مختلف مسلم گروپوں نے غصہ ظاہر کرتے ہوئے ممبئی کے چھ مختلف پولیس اسٹیشنوں پر شکایت درج کرائی ہے۔ صحافی نے 16 نومبر کو فلم ایس درگا کی مخالفت میں اسلام اور عیسائیت کی قابل احترام خواتین کو نشانہ بنایا ،روہت نے ن رسول اللہ ؐ کی زوجہ حضرت عائشہ ، دختر فاطمہ اورحضرت عیسیٰ کی والدہ محترمہ بی بی مریم کو لے کر ایک قابل اعتراض ٹویٹ کیا تھا۔

میرا روڈ میں واقع نیا نگر پولیس اسٹیشن میں سردانا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295 اے (دانستہ طورپر کر مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کر کے کسی خاص طبقے کے جذبات کوٹھیس پہنچانا ) 153 اے (مختلف گروپوں کے درمیان عداوت کو فروغ دینا) اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

متنازع ٹویٹ کرکے روہت سردانا مشکل میں پھنسے ، مسلم اور عیسائی تنظیموں میں شدید غصہ ، متعدد کیس درج

صحافی روہت سردانا ، تصویر : فیس بک

مسلم گروپوں کا کہنا ہے کہ سردانا کو ٹویٹ لوگوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو تحلیل کرنے کا مقصد رکھتا ہے، مسلم ایسوسی ایشن آف پیس اینڈ ہارمنی کے صدر محمد عباس رضوان خان نے کہاکہ یہ سستی مقبولیت حاصل کرنے کی دوسری کوشش ہے، ہم نہیں جانتے اگر انہوں نے اس ٹویٹ کے ذریعے اپنے سیاسی گرو کو خوش کرنے کے لئے لکھا ہو، لیکن ان کے الفاظ سے ہمیں ٹھیس پہنچی ہے اور ہم اس کی تنقید کرتے ہیں۔

خان نے مزید کہا کہ اگر سردانا گرفتار نہ ہو تو ہم جمعہ کو پُرامن طورپر احتجاج کریں گے۔ممبئی کے ورسووا پولیس اسٹیشن کی سینئر انسپکٹر کرن کالے نے کہاکہ ہمیں ایک مسلم تنظیم سے تحریری شکایت ملی ہے اور ہم اس معاملے کی تحقیقات کر کارروائی کریں گے۔ ورسوا میں شکایت کرنے والے انجمن خادم حسین نے کہاکہ سردانا نے اپنے ٹویٹ سے مذہبی حدود سے باہر نکل کر ہندوستانی کمیونٹی کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز