سیاسی گہما گہمی کے درمیان کانگریس کے 40 ممبران اسمبلی بنگلور بھیجے گئے

Jul 29, 2017 04:30 PM IST | Updated on: Jul 29, 2017 04:30 PM IST

گاندھی نگر۔ گجرات میں گزشتہ دو دن میں 6 اراکین اسمبلی کے استعفی سے کانگریس میں افراتفری کے درمیان اس کے لئے ' ساکھ' کا موضوع بنے 8 اگست کے راجیہ سبھا انتخابات میں اس کے امیدوار اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کی شکست کے خدشہ کو دور کرنے کے لئے بقیہ 51 میں اب تک تقریبا 40 ممبر اسمبلی کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کاعہدہ چھوڑنے کے باوجود ممبر اسمبلی عہدے پر برقرارباغی سینئر لیڈر شنكرسنگھ واگھیلا کے خیمے کے سات اراکین اسمبلی کے علاوہ بھی چار دیگر کانگریس ممبر اسمبلی اب تک گجرات میں ہی ہیں۔ غیر واگھیلا خیمے کے ممبر اسمبلی اور پارٹی کے سینئر لیڈر شكتی سنگھ گوہل، جو کم از کم دیگر تین ایسے ممبران اسمبلی کے ساتھ گجرات میں ہیں، نے آج يواین آئی کو بتایا کہ تقریبا 40 ایم ایل اے بنگلور جا چکے ہیں۔ وہ اور پارٹی کے نئے چیف وہپ شیلیش پرمار راجیہ سبھا انتخابات کی نامزدگی کی جانچ کے سلسلے میں یہاں قیام کر رہے ہیں۔ دو دیگر ممبران اسمبلی محترمہ چندریكابین باريا اور جیتو چودھری ذاتی وجوہات کی بنا پر کل بنگلور نہیں جا سکے تھے۔ وہ بھی جلد ہی وہاں کے لئے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پارٹی کے پاس مسٹر پٹیل کی فتح کے لئے ضروری اعدادوشمار ہیں ۔

واضح رہے کہ پہلے ہی کانگریس چھوڑنے کا اعلان کر چکے واگھیلا حامی ممبر ان سمبلی راگھوجي پٹیل، مسٹر واگھیلا کے ممبر اسمبلی بیٹے مهندرسنگھ واگھیلا اور گودھرا کے ممبر اسمبلی سی کے راؤلجي سمیت تقریبا سات ممبر اسمبلی اب بھی گجرات میں ہی ہیں۔ پارٹی نے غیر واگھیلا خیمے کے کئی ممبران اسمبلی کو جمع کرکے راجکوٹ اور آنند کے دو فارم ہاؤس میں اور احمد آباد کے تاج ہوٹل میں رکھا گیا تھا۔ انہیں کل مختلف فلائٹوں سے احمد آباد اور راجکوٹ سے بنگلور بھیجا گیا جہاں انہیں فی الحال سخت سیکورٹی کے درمیان واقع دی گولف ولیج آف اگلٹن نام کے رسارٹ میں رکھا گیا ہے۔ گجرات کی تین راجیہ سبھا سیٹوں پر انتخابات میں پانچویں بار راجیہ سبھا میں جانے کے لئے قسمت آزما رہے مسٹر پٹیل کی

سیاسی گہما گہمی کے درمیان کانگریس کے 40 ممبران اسمبلی بنگلور بھیجے گئے

ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ بی جے پی نے مسٹر امت شاہ اور محترمہ اسمرتی ایرانی کے علاوہ کانگریس چھوڑ کر کل ہی بی جے پی میں شامل ہوئے سابق چیف وہپ اور مسٹر واگھیلا کے قریبی رشتہ دار بلونت سنگھ راجپوت کو اپنا تیسرا امیدوار بنا دیا ہے۔

کل 182 ارکان والی گجرات اسمبلی میں بی جے پی کے پاس ایک باغی سمیت 122 رکن اسمبلی ہیں۔ چھ ممبراسمبلی کے استعفی کے بعد کانگریس کے 51، این سی پی کے دو اور جے ڈی یو کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ آج کے حساب کے لحاظ سے مسٹر شاہ اور محترمہ ایرانی کی جیت طے ہے، مسٹر پٹیل کو فتح حاصل کرنے کے لئے 45 ممبراسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔ جے ڈی یو اور این سی پی نے ان کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ کانگریس کے چار ممبران اسمبلی نے کل میڈیا کے سامنے دعوی کیا تھا کہ بی جے پی نے انہیں پالا تبدیل کرنے کے لئے پانچ سے دس کروڑ روپے اور اس سال کے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دینے کا آفر کیا تھا۔ پارٹی نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز