اسکالر شپ کیلئے حکومتی انکم سرٹیفکیٹ کی لازمیت اقلیتی طالبات کو محروم رکھنے کی ایک سازش : عارف نسیم خان

Sep 25, 2017 09:53 AM IST | Updated on: Sep 25, 2017 09:53 AM IST

ممبئی: مرکزی حکومت کے تحت اقلیتی طالبا ت کے لئے جاری مولانا آزاد نیشنل اسکالرشپ اسکیم کے لئے آمدنی سرٹیفیکٹ نیز اسے انگریزی یا ہندی زبان میں لازمی قرار دیئے جانے کی آج یہاں سابق ریاستی وزیراور کانگریس کے سینئر مسلم لیڈر محمد عارف نسیم خان نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اقلیتی طالبات کو مذکورہ اسکیم سے محروم رکھنے کی بی جے پی حکومت کی سازش قرار دیا ہے اور مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں جس طرح والدین کے حلف نامہ کو آمدنی کا ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا، وہی طریقہ دوبارہ رائج کیا جائے نیز اس کے لئے انگریزی یا ہندی زبان میں ہونے کی قید کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اقلیتی طالبات کو مالی امداد دینے کے لئے سابقہ کانگریسی حکومت نے مولانا آزاد نیشنل اسکالر شپ اسکیم شروع کی تھی جس کے تحت پورے ملک میں9وی، 10؍ویں، 11؍ویں اور 12؍ویں جماعت کی طالبات پانچ او ر چھ ہزار روپے کی اسکالرشپ دی جاتی تھی۔ اس کے حصول کی شرائط میں طالبات کے والدین کی آمدنی کی تصدیق لازمی تھی مگر اس کے لئے ذاتی حلف نامہ داخل کرنا کافی ہوتا تھا۔ مگر جب سے مرکزمیں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، وہ کسی نہ کسی بہانے اقلیتوں کی تعلیمی سہولیات ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے تحت اس نے مذکورہ اسکالرشپ اسکیم کے حصول کو مشکل بناتے ہوئے نہ صرف حکومتی اتھاریٹیز کی جانب سے جاری کردہ آمدنی کے سرٹیفکٹ کو لازمی قرار دیا ہے بلکہ اس کے لئے بھی انگریزی یا ہندی زبان کو لازمی بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتی طالبات کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے اور انہیں مذکورہ اسکیم سے محروم رکھنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے۔

اسکالر شپ کیلئے حکومتی انکم سرٹیفکیٹ کی لازمیت اقلیتی طالبات کو محروم رکھنے کی ایک سازش : عارف نسیم خان

محمد عارف نسیم خان نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ سابقہ مرکرزی وریاستی حکومتوں نے مختلف کمیشنوں کی شفارشات کی بنیاد پر اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے جو اسکیمیں شروع کی تھیں، انہیں مرکزوریاست کی بی جے پی حکومتیں کبھی کوئی سرکیولر نکال کر تو کبھی تفتیش کے نام پر ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ اقلیتیں کو ان فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہ مل سکے۔بی جے پی حکومتوں کی یہ کوشش محض فرقہ پرستی بنیاد پر ہے ، ان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ہر سطح پر محروم کیا جائے تاکہ ان کے لئے ترقی کے تمام راستے مسدود ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی وریاستی حکومتیں انتقامی جذبے کے تحت کام کررہی ہیں ، ان کی کوشش ہے کہ وہ کانگریس کی بنائی ہوئی اسکیموں کو ناکام کریں۔ اسی سوچ کی بنیاد پر مولانا آزاد نیشنل اسکالرشپ کی تفتیش اور اس کے لئے حکومتی اتھارٹیزکے انکم پروف کو لازم بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ محمد عارف نسیم خان نے اس تعلق سے مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کو ایک مکتوب بھی روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے انکم پروف کے لئے اسکالرشپ حاصل کرنے کے خواہشمند طالبات کے والدین کے ذاتی حلف نامہ کو تسلیم کئے جانے اور حکومتی اتھارٹیز کے انکم پروف کی لازمیت کو رد کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے نیز یہ بھی مانگ کی ہے کہ اس کے لئے انگریزی یا ہندی کی قید کو ختم کیا جائے۔

اس تعلق سے انہوں نے کہا ہے کہ ہرریاست کی اپنی زبان ہوتی ہے اور نہ صرف سرکاری کام کاج بلکہ دیگر دفتری امور کے کام بھی متعلقہ ریاستی زبان میں ہوتا ہے۔ مہاراشٹر میں مراٹھی ، گجرات میں گجراتی ، تامل ناڈو میں تمل ، کرناٹک میں کنڑ ، بنگال میں بنگالی اور اسی طرح دیگر ریاستوں میں ان کی ریاستی زبان ہوتی ہے۔ اگر انگریزی یا ہندی کو لازمی قرار دیا جاتا ہے تو اس مذکورہ اسکیم سے لاکھوں طالبات محروم رہ جائیں گے۔

اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرکزکی اقلیتی امور کی وزارت مک بھر کے لاکھوں طلبہ کو اسکالرشپ سے محروم رکھنا چاہتی ہے؟ اسی کے ساتھ انہوں نے ریاست کے وزیربرائے محصول چند کانت پاٹل سے براہ راست بات کرکے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آمدنی سے متعلق سرٹیفکیٹ کومراٹھی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ لوگ مرکزکی دیگر ی سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھا سکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز