روہنگیا مسلمانوں کے تعلق سے مودی حکومت کا حلف نامہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر دیا گیا ایک بیان : عارف نسیم خان

Sep 18, 2017 10:39 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 10:39 PM IST

ممبئی: مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے آ ج یہاں مرکزی حکومت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے تعلق سے سپریم کورٹ میں دائر کئے گئے حلف نامے کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر دیا ہوا بیان قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں اپنی سابقہ روایات کے مطابق انسانی بنیادوں پر ان رفیوجیوں کو ملک میں قیام کی اجازت دے۔ ممبئی میں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو ملک میں رہنے کو قومی سلامتی کو خطرہ قرار دیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوئے اور اپنے وطن کو انہوں نے مجبوری میں چھوڑا ہے۔

نسیم خان نے کہا کہ آزادی ملک کے بعد ہندوستان نے مختلف مواقع پر رفیوجیوں کو اپنے ملک میں قیام کی اجازت دی ہے۔ نیز مودی حکومت نے فرقہ پرستی کا عینک لگا کر جو یہ حلف نامہ داخل کیا ہے۔ اس سے ملک کی تمام سابقہ روایات کو توڑ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ضمن میں نسیم خان نے صدر جمہوریہ ہند کو بھی ایک مکتوب روانہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان میں انسانی بنیادوں پر رہنے کی اجازت دی جائے جیسا کہ ماضی میں مختلف ممالک سے ظلم و ستم کا شکار ہوئے افراد کو ہندوستان کی آغوش میں پناہ دی گئی تھی۔

روہنگیا مسلمانوں کے تعلق سے مودی حکومت کا حلف نامہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر دیا گیا ایک بیان : عارف نسیم خان

گزشتہ ماہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے بعد تین لاکھ سے بھی زائد مسلمان نقل مکانی کرچکے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز