مودی حکومت کا تین طلاق مخالف بل شریعت میں مداخلت: کانگریس لیڈر نسیم خان

Dec 30, 2017 06:44 PM IST | Updated on: Dec 30, 2017 06:44 PM IST

ممبئی۔  مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے تین طلاق مخالف بل کی آج یہاں ریاست کے سابق اقلیتی امور کے وزیر اور سینئر کانگریسی مسلم لیڈر محمد عارف نسیم خان نے سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بل نہ صرف شریعت میں مداخلت ہے بلکہ آئین میں دیئے گئے مذہبی آزادی کے بھی خلاف ہے۔ اس بل کو آئین کے مطابق بنانے کے لئے اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے اور ملک کے مقتدر علماءومفتیان کرام اور دینی تنظیمو ں کے نمائندوں سے صلاح ومشورہ کرکے اس پر ازسرِ نوغور کیا جانا چاہئے۔ تاکہ شریعت میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو اور آئین میں دیئے گئے مذہبی آزادی کے حقوق کی حفاظت ہوسکے۔

نسیم خان نے کہا کہ مرکزکی مودی حکومت کی جانب سے جو بل پیش کیا گیا ہے ، اس میں ایک نشست میں تین طلاق دینے والوں کے لئے تین سال کی سزا اور جرمانے کا تعین کیا گیا ہے نیز مطللقہ کو نان ونفقہ دینے کی ذمہ داری بھی مرد پر عائد کی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تین طلاق دینے والے کو جیل بھیج دیا جائے گا تو پھر وہ نان ونفقہ کس طرح ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ نکاح وطلاق جو صریح طور پر سول معاملہ ہے ، مگر حکومت نے اپنے بل میں کریمنل کے زمرے میں رکھ دیا ہے۔ یہ مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت تو ہے ہی ، مسلم خواتین پر بھی یہ ایک طرح سے ظلم کے مترادف ہے۔

مودی حکومت کا تین طلاق مخالف بل شریعت میں مداخلت: کانگریس لیڈر نسیم خان

کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان: فائل فوٹو۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہونے کے بعد جس طرح میڈیا میں کچھ مسلم نما خواتین کو ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلاتے ہوئے دکھا یا گیا ہے، وہ یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ آرایس ایس وبی جے پی کی ایک منصوبہ بند سازش ہے جس کا مقصد مسلم خواتین کو راحت دینا یا تین طلاق پر پابندی عائد کرنا نہیں بلکہ کامن سول کوڈ کو لاگو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معلومات رکھنے والوں سے صلاح ومشورہ کے بغیر جس قدر جلد بازی میں مودی حکومت نے یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، اس نے مودی حکومت کی منشاءپر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس وبی جے پی کے یکساں سول کوڈ کی جانب مودی حکومت کا یہ پہلا قدم ہے جسے وہ قانون بناکر لاگو کرانا چاہتی ہے۔ مگر سنگھی ذہنیت کے حاملین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے، شریعت میں مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ شریعت میں مداخلت کی اپنی اس کوشش سے باز آ جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز