وقف آراضی میں ہوئے گھپلوں کی اعلی سطحی عدالتی جانچ کرائی جائے : عارف نسیم خان

Mar 07, 2017 07:54 PM IST | Updated on: Mar 07, 2017 07:54 PM IST

ممبئی ۔ مہاراشٹر اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے  دوسرے دن آج یہاں سابق اقلیتی امور وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے ریاست میں اوقاف کی زمینوں کی خرید و فروخت اور اس میں ہوے گھپلوں کے معاملے میں اعلی سطحی ہائی کورٹ کے موجودہ جج کے ذریعے عدالتی جانچ کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کیئے جانے کی مانگ کی ہے ۔ ریاستی اسمبلی میں پوائنٹ آف انفارمیشن کے تحت 2مرتبہ یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ ریاست کے ناسک شہر میں واقع دودھاری مسجد 85 ؍ایکڑ قطعہ اراضی پر مشتمل ہے اور آج اس کا بازاری بھاوتقریبا ۵۲۰۰؍کروڑ ہے ۱۷؍ویں عیسوی میں مغل بادشاہ نے اسے تعمیر کیا تھا اور برطانوی راج میں گجبٹ میں اس کا اندراج ہے نیز چند سالوں بعد اس مسجد پر چند مفاد پرست عناصر نے قبضہ کر لیا تھا ۔ نسیم خان نے کہا کہ 2008؍میں مسجد اور اس سے متعلقہ قطعہ اراضی کو وقف بورڈ میں شامل کیا گیا لیکن اس فیصلے کے خلاف قطع اراضی پر قبضہ دار نے عدالتی کارروائی کی جس پر وقف ٹریبونل نے اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے قبضہ دار کی عرضداشت کو مسترد کر دیا ۔

سابق وزیر نے کہا کہ اس سلسلے میں عدالتی کارروائی چلتی رہی اور بالآخر سپریم کورٹ میں 2014؍میں وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹیو افسر نے یہ حلف نامہ داخل کیا کہ وہ اس قطعہ اراضی کی ملکیت کے تعلق سے کوئی فیصلہ صادر نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں ۶؍ہفتہ کی مہلت طلب کی اور اس پر کوئی نتیجہ لانے کی یقین دہانی کرائی ۔ نسیم خان نے کہا کہ ریاستی حکومت کے اس حلف نامہ کے بعد اچانک ہی اس قیمتی وقف کی زمین کو وقف بورڈ کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا اور اسے مقامی بلڈر کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا ۔ انہوں نے عروس البلاد ممبئی کے لال شاہ بابا ٹرسٹ کی 2000 ؍کروڑ روپیہ کی لال باغ علاقہ میں واقع قطعہ اراضی وقف بورڈ میں شامل تھی لیکن اس قطعہ اراضی کو بھی ایک مقامی بلڈر کو کوڑیوں کے بھاو قانون کو بالائے طاق پر رکھ کر فروخت کیا گیا اور وہاں ۳۲؍منزلہ عالیشان عمارت تعمیر کی گئی ۔ اس سلسلے میں ایوان میں مطالبہ پیش کرنے کے بعد نسیم خان نے ودھان سبھا کے پریس روم میں آ کر اخبار نویسوں سے بھی خطاب کیا اور بتلایا کہ جب سے ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا کی قیادت والی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے تب سے اوقاف کی زمینوں کو غیر قانونی طور سے فروخت کیا جا رہا ہے اور ایک منظم طریقے سے ہمارے اسلاف کی جائیدادوں کی لوٹ کھسوٹ کی جا رہی ہے۔

وقف آراضی میں ہوئے گھپلوں کی اعلی سطحی عدالتی جانچ کرائی جائے : عارف نسیم خان

انہوں نے ناسک کی زمین کو ایک ایسے بلڈر کو فروخت کیئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متذکرہ بلڈر کا آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور شہر سے گہرا تعلق سے لہذا اس بات کی بھی جانچ کرائی جائے کہ بلڈر اور حکومت کے کن اعلی عہدیداران کے درمیان روابط کے وجہ سے یہ زمینیں غیر قانونی طور پر فروخت کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جعفرانی حکومت کے دور اقتدار میں تو صرف وقف کی زمینوں کی غیر قانونی فروخت کی یہ دو مثالیں ہیں لیکن ایک طویل فہرست موجود ہے جس کی ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے جانچ کرائی جانی چاہیئے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ جائے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز