جنوبی ممبئی کے انتہائی حساس حفاظتی علاقہ میں کانگریس دفترپر ایم این ایس کا حملہ ، دیش پانڈے گرفتار

Dec 01, 2017 07:44 PM IST | Updated on: Dec 01, 2017 07:44 PM IST

ممبئی : جنوبی ممبئی میں تاریخ آزاد میدان میں واقع ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی کے صدردفتر میں راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا کے ورکوں نے زبردستی گھس کر بڑے پیمانے پر توڑپھوڑکی اور اسے ’ایک سرجیکل اسٹرائیک ‘قراردیا ،ایم این ایس کے سکریٹری سندیپ دیشپانڈے نے ایک ٹوئیٹ میں کہاکہ ’’ایم این ایس کی طرف سے بھیاسنجے نروپم کے دفتر پر یہ ’سرجیکل اسٹرائیک ‘ہے اور ہم سے اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا۔‘‘ پولیس نے چند گھنٹے بعد ڈیشپانڈے کو گرفتار کرلیا ہے۔

حیرت انگیزطورپرایم آرسی سی کا صدردفتر ممبئی کے سخت حفاظتی علاقہ فورٹ کے ساتھ ساتھ آزادمیدان پولیس تھانے اور بی ایم سی کے صدردفتر کے مقابل واقع ہے ،جس کی وجہ سے مختلف طبقوں اور پارٹیوں کی جانب سے شدیدردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔دراصل حال میں ایم این ایس کے ذریعے خوانچے والوں پر حملہ درپردہ شمالی ہند کے باشندوں پر حملے کی وجہ سے دونوں پارٹیوں میں لفظی جنگ جاری تھی۔پولیس نے شدید ردعمل کے بعد دیشپانڈے کو گرفتار کرلیا ہے۔کیونکہ اپنے ٹوئیٹ پر دیشپانڈے نے حملے کا اعتراف کیا ہے۔

جنوبی ممبئی کے انتہائی حساس حفاظتی علاقہ میں کانگریس دفترپر ایم این ایس کا حملہ ، دیش پانڈے گرفتار

واضح رہے کہ ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم بھی شمالی ہند سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اھنے شدید ردعمل میں ایم این ایس کی غنڈہ گردی کو ’بذدلی اور نامردی ‘قراردیا ہے اور کہا کہ ایم این ایس کی حال میں بُری حالت کی وجہ سے اس کی لیڈ رشپ مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔کیونکہ ہاکرس نے ان پر حملے کے نتیجے میں جوابی کارروائی کی ہے ۔

سنجے نروپم نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ایم این ایس کیخلاف موثر کارروائی کی جائے ،ورنہ اس کا منہ توڑجواب دیا جائے گا۔‘‘نروپم کے بیان کے بعد پولیس نے راج ٹھاکرے کی وسطی ممبئی کے شیوجی پارک علاقہ میں واقع رہائش گاہ اورشہر میں ایم این ایس دفاترکے باہر حفاظتی انتظامات بڑھا دیئے ہیں۔ایم آرسی سی کے جنرل سکریٹری آصف فاروقی نے اپنے ردعمل اسے جمہوریت پر حملہ قراردیا ہے اور کہا کہ شرپسندوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان کے حوصلہ مزید بلند ہوں گے۔

سابق مرکزی ومرکزی وزیر گروداس کامت نے ایم آرسی سی دفتر حملے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی کے پولیس کمشنر دتاترے پڈسالگیکر فوری طورپر ہرحال میں غنڈوں کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کریں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایسے عناصر کو ارباب اقتدار کی پشت پناہی حاصل رہتی ہے۔سابق ریاستی وزیر داخلہ کرپاشنکر سنگھ نے اس حملہ کو افسوناک قراردیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کیلئے ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت پر حملے جیسے ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جانا چاہئے ۔

انہوں نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے کیونکہ اس طرح کی حرکتیں مہاراشٹر کی تہذیب کے خلاف ہے۔اگر کسی سے سیاسی اختلاف ہے تو اس کے دوسرے طریقے ہیں جن کی بنیاد پر لڑاجائے۔ایم این ایس نے29ستمبرکو ویسٹرن ریلوے کے الفسٹن اسٹیشن پربھگڈرکے واقعہ کے بعدشمالی ہند کے شہریوں کے خلاف اپنا سخت گیر احتجاج شروع کیا اور جب اس کے چار کارپوریٹرس شیوسینا میں شامل ہوئے تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف شمالی ہند کے لوگوں کو جگہ جگہ نشانہ بنایا جانے لگا جس کے جواب میں ایم این ایس کے کئی لیڈروں کی پٹائی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔جبکہ اس معاملہ میں وزیراعلی ٰفڑنویس اور اداکارنانا پاٹیکر سمیت متعددافراد نے شمالی ہند کے شہریوں کی مکمل حمایت کی ۔جس سے ایم این ایس مایوسی کا شکار ہوگئی اور اس فرسٹریشن کو چھپانے کے لیے مذکورہ حملہ کیا گیا ہے۔

آج صبح تقریباً 10بجے شرپسند انتہائی سیکورٹی والے علاقے میں داخل ہوئے اور انہوں نے کانگریس صدردفتر میں زبردستی گھس کر توڑپھوڑ کی اس وقت دفتر میں صرف صفائی ملازمین ہی موجود تھے،آزادمیدان کے اس احاطے میں مراٹھی پترکارسنگھ ،پریس کلب آف ممبئی ،آرپی آئی (اے ) ،شہری رسد کے دفاتر واقع ہیں جبکہ ایم آرسی سی دفتر کے مقابل آزاد میدان پولیس اسٹیشن ،الفسٹن (قلعہ کورٹ)کورٹ،بی ایم سی کا صدردفتر،کامااسپتال اور سی ایس ایم ایم ٹی اسٹیشن واقع ہے جبکہ متصل آزاد میدان میں پولیس ،ایس آرپی ایف اور دیگر نیم فوجی دستے تعینات رہتے ہیں کیونکہ دہلی کے جترمنتر کی طرح یہاں بھی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔آج کے حملہ کے دوران نصف درجن حملہ آورہاتھوں میں سلاخیں اور لکڑیاں لیے ہوئے تھے اور انہوں نے شیشے کے دروازوں ،کیبن ،بجلی کی وائرنگ اور فرنیچر کو تباہ کردیا ہے اور بڑی آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔لیکن اس سے قبل انہوں نے کانگریس دفتر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز