مہاراشٹر اردواکادمی کے انعامات کی تقسیم میں بے ضابطگیوں کا الزام ، تحقیقات کا مطالبہ

Dec 10, 2017 09:18 PM IST | Updated on: Dec 10, 2017 09:18 PM IST

ممبئی : حال میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردواکادمی کے ذریعہ اردوکے فروغ اور ترقی وتشہیر کے لیے دیئے جانے والے انعامات میں بے ضابطگیوں اور اصولوں کوبلاطاق رکھنے کا الزام عائدکیا گیا ہے اور اس سلسلے میں پونے کے سلیم خان نے حکومت اور وزیر تعلیم اقلیتی امور اور محکمہ اقلیتی امور کے سکریٹری کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے۔ایک مکتوب میں سلیم خان نے اس موقع پر اقرباء پروری کا بھی الزام عائد کیا ہے کہ جلسہ تقسیم انعامات کی نظامت سے رفیق گلاب کو ہٹادیا گیا کہ ان کی کتاب انعام یافتگان کی فہرست میں شامل تھی اور ایک ساتھ دوفائدے اکادمی کسی کو نہیں دیتی ہے ،لیکن اس کے برعکس نورالحسنین انعام یافتہ افراد کے انتخاب کی کمیٹی میں شامل تھے ، لیکن انہیں ان کی کتاب کے لیے انعام دیا گیا ۔

بتایا جاتا ہے کہ اگر کیسی کتاب کو اشاعت کے لیے سرکاری امداد دی جائے تو انہیں انعام نہیں جاتا ہے،حالانکہ نورالحسنین کو ان کی کتاب کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردوسے پہلے ہی اشاعت کے مالی مددمل چکی ہے۔اسکے باوجود ان کی کتاب کو انعام سے نوازاگیا اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ رحمن عباس کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین ہے جنہوں نے کسی معاملہ میں ایک سال قبل اردواکادمی کا انعام واپس کرکے سرخیاں بٹوری تھیں ،اور اکادمی کی توہین کرنے کے انعام میں انہیں دوبارہ دوبارہ ان کے ناول کے لیے انعام سے نوازا گیا ہے ،اور ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ ایک بار پھر حکومت کے منہ پر انعام ماردیں۔اسی طرح فاروق اعظمی کو جج ہونے کے باوجود ان کی کتاب پر انعام دیا گیا ہے ،کئی افراد کو ایک بار پھر قوانین کو نظرانداز کرکے ایوارڈ س دیئے گئے ہیں جبک اقبال نیازی بھی ماضی میں کئی اعزاز لے چکے ہیں بلکہ اکادی میں عہدیداربھی رہ چکے ہیں۔

مہاراشٹر اردواکادمی کے انعامات کی تقسیم میں بے ضابطگیوں کا الزام ، تحقیقات کا مطالبہ

سلیم خان مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ممبران اور ججو ں کی جانچ کی جائے حالانکہ موجودہ ممبران نے یہ کہہ کر پلو جھاڑ لیا ہے کہ سرکار کی جانب سے حال میں تشکیل شدہ کمیٹی نے یہ انتخابات کیے ہیں ،اور ان کا ان ایوارڈز سے کوئی سروکار نہیں ہے۔صرف صحافت میں حقدار حق بہ نصیب کا معاملہ ہوا ہے اور محمدعباس اور معراج انورکے ساتھ ساتھ عاصم جلال کو وقت رہتے ایوار ڈ دے دیئے گئے حالانکہ محمد عباس کو دوہائیوں بعد یہ اعزاز مل سکا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز