ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایتیں بالائے طاق ، ممبئی میں پرائم لوکیشن کی130 وقف جائیدادوں میں خرد برد

ممبئی کے چیریٹی کمشنرنے پرائم لوکیشن پر واقع 130 وقف جائیدادوں کو یا تو فروخت کردیا ہے ، یا ڈیولپمنٹ کے لیے دے دیا

May 10, 2017 08:40 PM IST | Updated on: May 10, 2017 08:40 PM IST

اورنگ آباد: ممبئی کے چیریٹی کمشنرنے پرائم لوکیشن پر واقع 130 وقف جائیدادوں کو یا تو فروخت کردیا ہے ، یا ڈیولپمنٹ کے لیے دے دیا اور یہ سب کچھ بامبے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بالائے طاق رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس طرح کا سنسنی خیزالزام تحریک اوقاف کے صدر شبیر انصاری نے لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں انھوں نے ریاست کے وزیراعلی فرنویس سے شکایت بھی کی ہے ۔

شبیر انصاری نے دعوی کیا ہے کہ چیریٹی کمشنر نےعدالتوں کے فیصلوں کو بھی خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھا۔ آر ٹی آئی سے حاصل کردہ جانکاری کی بنیاد پرانصاری نے دعوی کیا کہ یہ سب دھاندلیاں 2011 سے پہلے کی گئیں ۔ شبیر انصاری نے فروخت کردہ یا لیز پر دی گئی جائیدادوں کی فہرست بھی بتائی ۔ اس سلسلے میں شبیر انصاری نے وزیراعلی فرنویس سے با ضابطہ شکایت بھی کی ہے ۔

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایتیں بالائے طاق ، ممبئی میں پرائم لوکیشن کی130 وقف جائیدادوں میں خرد برد

ریاستی وقف بورڈ کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہےکہ چیئرمین قانونی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے مستقل سی ای او کے طور پر اے آر قریشی کا تقرر ضرور کیا ، لیکن سی ای او بھی کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ ادھر تحریک اوقاف نے وقف بورڈ کے چیئرمین کی خاموشی پراعتراض کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں فائلیں التوا میں پڑی ہوئی ہیں اور چیئرمین بہانے بنارہے ہیں ۔

مہاراشٹر حکومت ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ریاست کی وقف جائیدادوں کا سروے کرا رہی ہے ۔ ابتدائی مرحلے میں پنے اور پربھنی میں سروے کیا جا رہا ہے ، لیکن انصاری کا الزام ہے کہ ریاستی وقف بورڈ کے حکام اس تعلق سے بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ انصاری نے بورڈ کی لاپروائی کے خلاف احتجاج کا بھی انتباہ دیا ہے ۔ شبیر انصاری نے وقف بورڈ کے تعلق سے حکومت کی نیت پر بھی سوال اٹھایا ۔ انصاری کا کہنا ہے کہ حکومت اگر سنجیدہ ہوتی ، تو وف ایکٹ کے تحت سی ای او کا تقرر ہوتا ، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز