راجستھان : عمر قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات ، لواحقین کا ملزمین کی گرفتاری تک لاش لینے سے انکار

راجستھان کے الور میں گائے لے جانے کی وجہ سے مبینہ گئو رکشکوں کے ذریعہ عمر کے قتل اور طاہر کی شدید پٹائی کے معاملہ میں کئی سنسنی خیز انکشافات ہورہے ہیں

Nov 12, 2017 08:33 PM IST | Updated on: Nov 13, 2017 10:20 AM IST

الور: راجستھان کے الور میں گائے لے جانے کی وجہ سے مبینہ گئو رکشکوں کے ذریعہ عمر کے قتل اور طاہر کی شدید پٹائی کے معاملہ میں کئی سنسنی خیز انکشافات ہورہے ہیں ۔ پولیس کے رول پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ادھر مسلم میو برادری سے وابستہ افراد میو پنچایت الور کی قیادت میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مظاہرین ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پولس اہلکار بھی ملوث ہیں کیوں کہ پولس نے مسلسل اس واقعہ کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ متاثرین کے لواحقین کے مطابق گایوں کو ذبح کے لئے نہیں لے جا یا جا رہا تھا ،کیوں کہ تمام گائیں دودھ دینے والی ہیں۔ادھر میو پنچایت الور کے ترجمان قاسم میواتی کا کہنا ہے کہ جب تک پولس اہلکار اور دوسرے ملزمین کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا تب تک وہ لاش نہیں لیں گے اور دھرنا اسی طرح جاری رکھیں گے۔

راجستھان : عمر قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات ، لواحقین کا ملزمین کی گرفتاری تک لاش لینے سے انکار

قابل ذکر ہے کہگئورکشا کے نام پر دودھ کا کاروبار کرنے والے مسلمانوں پر ہوئے اس حملہ کی خبرکے سامنے آنے سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ عمر خان اور طاہر راجستھان کے الور ضلع سے پک اپ گاڑی میں گایوں کو لے کر بھرت پور کے گھاٹ مکا گاؤں جا رہے تھے۔ دیر رات ان کے ساتھ مبینہ گئو رکشکوں نے مار پیٹ کی اور پھر گولی مار دی۔حملے میں ایک نوجوان عمر خان کی موت ہو گئی ہے جبکہ زخمی طاہر کا ہریانہ کے فیروز پور جھرکا کے ایک نجی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

ftg-rajasthan-lynching.transfer

Loading...

ذرائع کے مطابق حملہ کرنے کے بعد نیم جان حالت میں عمر کو ریل کی پٹری پر ڈال دیا گیا اور قتل کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولس نے بھی رات میں ہی عمر خان کی لاش کو مورچری میں رکھوا دیا، جس کی وجہ سے پولس پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پولس نے اس کی اطلاع مہلوک کے گھروالوں کو نہیں دی۔

موقع سے کسی طرح جان بچا کر بھاگ جانے والا طاہر بھی خوفزدہ ہے اور ابھی تک ٹھیک سے بات نہیں کر پا رہا ہے۔معاملہ کی اطلاع کے بعد کافی تعداد میں میو سماج اور میو پنچایت الور سے وابستہ افراد الور کے راجیو گاندھی جنرل اسپتال پہنچے جہاں مہلوک عمر خان کی لاش مورچری میں رکھی گئی ہے۔میو پنچایت کا الزام ہے کہ پولس کے ساتھ ہندو نواز تنظیموں کے لوگوں نے گائے لے جا رہے مسلم نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کی اور ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

alwar-2

ادھر الور کے ایس پی راہل پرکاش کا کہنا تھا کہ ’’یہ بات صحیح نہیں ہے کہ رپورٹ درج نہیں کی گئی، مقدمہ تو اسی روز درج کر لیا گیا تھا۔ ‘‘ واردات کے پیچھے گئورکشکوں کا ہاتھ ہونے اور ریل کی پٹری پرعمرخان کوڈال کرحادثہ ظاہرکرنےکولےکرا​نہوں نے کہا کہ ’’یہ سب باتیں تو تفتیش کے بعد ہی پتہ چل سکیں گی‘‘۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز