وندے ماترم پرپھرہنگامہ ، بی جے پی اور ایم آئی ایم میں تکرار، ابوعاصم اعظمی نے کہا : یہ دیش بھکتی کا پیمانہ نہیں

Jul 28, 2017 09:12 PM IST | Updated on: Jul 28, 2017 09:12 PM IST

ممبئی: آج مہاراشٹر اسمبلی میں ایک بار پھر وندے ماترم پڑھنے کا معاملہ اٹھا یا گیا اورایوان میں کافی ہنگامہ آرائی کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی عمارت کے احاطہ میں بھی اراکین گتھم گتھانظرآئے۔ حال میں مدراس ہائی کورٹ کے ذریعہ وندے ماترم کو اسکولوں اور دفاتر میں لازمی قرار دینے کے حکم کے بعدجمعہ کومہاراشٹر اسمبلی میں بھی کئی شیوسینا اوربی جے پی ممبران نے مسئلہ اٹھایا اورسنگین صورتحال پیداہوگئی۔ آج ایوان میں شیوسینا کے دیواکر راوتے اوربی جے پی رکن راج پروہت نے یہ معاملہ اٹھایا۔اور ایوان کے باہراسمبلی کی عمارت کے احاطہ میں ایم آئی ایم کے وارث پٹھان اورپروہت آپس میں ٹکراگئے۔

مذکورہ مسئلہ پراظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ایوان اسمبلی تلخ لہجہ میں کہاکہ گیت گانا، دیش بھکتی یا حب الوطنی کا ثبوت نہیں ہے اس طرز پر کسی کو بھی دیش بھکت یا محب وطن نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ انہوں نے اپنے بیان پر وضاحت کر تے ہوئے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ’’ میرے بیان کا غلط مطلب اور معنی نکالاجارہا ہے میرے بیان سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، گیت گانے سے کوئی دیش بھکت نہیں ہوجاتا اس کے لئے جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے دیش سے محبت رکھنے کا پیغام گیت گانا نہیں ہوسکتا۔

وندے ماترم پرپھرہنگامہ ، بی جے پی اور ایم آئی ایم میں تکرار، ابوعاصم اعظمی نے کہا : یہ دیش بھکتی کا پیمانہ نہیں

اعظمی نے کہا کہ وہ ہندوستان زندہ باد ہزار بار بولیں گے ۔انہوں نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شاعرانہ انداز میں للکارا اور کہا ’’کسی کا قد بڑھادینا کسی کے قد کو کم کرنا ہمیںآتا نہیں نموترم کو موترم کہنا چلو چلتے ہیں ملکر وطن پر جان دیتے ہیں بہت آسان ہے بند کمرے میں وندے ماترم کہنا‘‘ ابوعاصم اعظمی نے سوال کیا کہ جئے ہند کا نعرہ کس نے دیا ایک مسلمان نے اور بھارت چھوڑو کا نعرہ بھی ایک مسلمان نے ہی دیا تھا ۔

انہوں نے آگے کہا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کا نعرہ دینے والے بھی مسلمان ہی تھے۔ جبکہ شیواجی کے سپہ سالار مسلمان ہی تھے جنہوں نے مغلوں کا مقابلہ کیا اوراسی طرح 1857 ء کے غدر میں بلیا کے منگل پانڈے کا سب سے پہلے کسی نے ساتھ دیا تو وہ مسلمان بادشاہ بہادر شاہ ظفر تھے ۔ اعظمی نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے اور سیاست کی جارہی ہے اسلام اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت نہیں دیتا ۔بی جے پی ان کے بیان کی آڑ میں سیاست کر رہی ہے ۔ یادر رہے کہ کل اعظمی نے کہاتھاکہ وندے ماترم نہیں بولیں گے بھلے ہی انہیں دیش سے نکال دیا جائے ،انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور کسی پر جبراً دھرم تھوپا نہیں جاسکتا اس بیان پر آج بی جے پی نے کافی ہنگامہ برپا کیا جس کے بعد ابوعاصم اعظمی نے اس پر صفائی پیش کی ۔

جبکہ دوسری طرف ا سمبلی کے احاطہ میں مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ممبرایڈوکیٹ وارث پٹھان اور بی جے پی ممبر راج پروہت کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور نعرے بازی کے دوران پولیس اور حفاظتی جوانوں کو مدخلت کرناپڑی۔ بتایاجاتا ہے کہدراصل اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں دونوں ایم ایل ایزوارث پٹھان اور راج پروہت وندے ماترم کے معاملہ پر نجی ٹی وی چینلز کوبیان دے رہے تھے، جب وارث پٹھان نے وندے ماترم پڑھنے سے انکار کیاتو قریبی کھڑے پروہت نے وندے ماترم کے حق میں نعرے بازی شروع کردی اور اس کے نتیجے میں لفظی تکرار ہوگئی۔آس پاس موجود ورکروں نے بھی نعرے لگنا شروع کردیا۔پولیس کودرمیان میں پڑنا پڑا۔اور وارث پٹھان کو بحفاظت ایوان تک پہنچایا۔

ایوان میں بحث کے دوران حیرت انگیزطورپر سلجھے ذہن کے مالک سمجھے جانے والے سابق وزیرایکناتھ کھڑسے نے کھڑے ہوکرابوعاصم سے کہا کہ آپ ہندوستان میں رہ کریہاں کی ہواپانی سے فیض حاصل کرتے ہیں اورپھربھی ملک کے گیت کوگانے سے احترازکرتے ہیں۔ جس پرابوعاصم نے واضح کیاکہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی اسلام اجازت نہیں دیتا ہے،اس لیے مسلمان وندے ماترم نہیں گاسکتاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز