اورنگ آباد کی مسار واڑی بستی میں 15 سال سے لوگ خرید کر پی رہے پانی

Jul 22, 2017 02:50 PM IST | Updated on: Jul 22, 2017 02:50 PM IST

 اورنگ آباد ۔ اورنگ آباد کی ایک ایسی بستی کی جانکاری ملی ہے، جہاں کے لوگ پچھلے پندرہ برسوں سے پانی خرید کر پیتے ہیں ۔ جی ہاں، مسار واڑی نام کی مسلم اکثریت والی اس بستی میں بنیادی سہولیات  آج  بھی ایک خواب بنی ہوئی ہیں ۔ ایک  طرف  اسمارٹ سٹی اور گرین سٹی جیسے پر فریب نعرے دیئے  جارہے ہیں ۔ ڈیجیٹل انڈیا کا خواب دکھایا جارہا ہے جبکہ زمینی حقیقت یہ ہیکہ  شہریان کو بجلی ، پانی  اور راستوں کے علاوہ پانی کی نکاسی اور طبی  امداد جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ۔ نہ  ہی  ہر کسی کو ڈرینج  میسر ہے ۔  یہ  لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہوں گے یہ تصور ہی محال ہے ۔

  اورنگ آباد شہر کے صنعتی  علاقے سڈکو ایم آئی ڈی سی کے قریب واقع  مسار واڑی  کی کل آبادی پانچ ہزار سے زائد  ہے ۔ اس بستی میں دلت اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے ۔ خستہ مکانات ، تنگ  گلیاں، مخدوش راستے اور گندے پانی سے لبریز ڈربے اس بستی کی شناخت ہیں ۔ مسارواڑی  وارڈ  کی قادریہ کالونی کا تو اور بھی برا حال ہے ۔ قادریہ کالونی کے لوگوں کو  نہ  پینے کے پانی کی سہولت ہے اور نہ ہی  بستی میں جانے کے لیے راستہ ۔   جگہ جگہ  بارش کا پانی جمع ہونے سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں ۔ مقامی لوگوں کو شکایت ہے کہ بار بار نمائندگی کے باوجود ان کے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ یہاں کے لوگ پچھلے پندرہ برسوں سے پانی خرید کر پینے  پر مجبور ہیں ۔  کارپوریشن کی جانب سے  ٹینکر سے انھیں  پانی فراہم کیا جاتا ہے  وہ بھی انھیں وقت پر میسر نہیں ہوتا۔

اورنگ آباد کی مسار واڑی بستی میں 15 سال سے لوگ خرید کر پی رہے پانی

ایم آئی ایم  کارپوریٹر سنگیتا واگھولے مسار واڑی کی نمائندگی کرتی  ہیں۔  مقامی لوگوں  کو سیاسی نمائندوں سے کافی شکایتیں ہیں لیکن کارپوریٹر کے تعلق سے ملا جلا ردعمل  سامنے آیا ہے۔  بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین برسوں میں سست رفتار سے ہی صحیح کچھ کام ہوا ہے لیکن  اتنی بڑی آبادی کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کچھ لوگوں نے کارپوریٹر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز