ڈلیوری کے دوران بچے کے ہو گئے دو ٹکڑے ، ڈاکٹروں نے جھٹکے سے کھینچا، سر رہ گیا اندر

ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے ان دو لوگوں کے خلاف الزام ہے کہ ان کی لاپرواہیوں کی وجہ سےڈلیوری کے دوران بچے کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور سر اندر ہی رہ گیا۔

Jan 11, 2019 03:25 PM IST | Updated on: Jan 12, 2019 01:29 PM IST

راجستھان پولیس نے جیسلمیر ضلع میں ایک خاتون کی ڈلیوری کے دوران مبینہ لاپرواہی کے معاملے میں (سی ایچ سی) ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے دو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔  ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے ان دو لوگوں کے خلاف الزام ہے کہ ان کی لاپرواہیوں کی وجہ سےڈلیوری کے دوران بچے کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ انڈین ایکسپریسوے کی خبر کے مطابق بچہ کے والد ترلوک سنگھ نے کہا ۔ ' میں اپنی اہلیہ کی ڈلیوری کیلئے 6 جنوری کو رام گڑھ کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر موجود نہیں تھے۔ ڈلیوری میں مدد کیلئے کمپاؤنڈر نے دوسرے شخص کو بلایا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جب میری اہلیہ سنگین درد میں تھی تو انہوں نے کہا کہ ڈلیوری میں پچیدگیاں ہیں اور بچہ زندہ نہیں بچ سکے گا۔

ایسے میں انہوں نے ہمیں جیسلمیر ٹرانسفر کر دیا۔ پھر جیسلمیر سے ہمیں جودھپور بھیجا گیا۔ جودھپور پہنچ کر ہمیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے ک جسم تو دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ماں کے پیٹ میں صرف بچے کا سر ہے جسم تو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے'۔

ڈلیوری کے دوران بچے کے ہو گئے دو ٹکڑے ، ڈاکٹروں نے جھٹکے سے کھینچا، سر رہ گیا اندر

علامتی تصویر

Loading...

ہمیں یہ بات سن کر بڑا دھکا لگا۔ یہ قتل ہے۔ جب وہ جانتے تھے کہ بچہ ان کی لاپرواہی کے سبب مر گیا ہے تو انہوں نے گمراہ کیوں کیا انہوں نے یہ دعوی کیا کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی سی ایچ سی ملازمین نے ان کے اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ یہ غلط سلوک کیا'۔

وہیں ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے ملازم جوجھار سنگھ اور امرت لال کے خلاف آئی پی سی دفعی 304 اے اور 336 کے تحت معاملہ کر لیا گیا ہے۔ رام گڑھ پولیس اسٹیشن کے ایس یچ او جالم سنگھ نے کہا کہ ہم نے اسپتال سے دیگر آدھے جسم کو برآمدکر لیا ہے اور جسم کا پوسٹ مارٹم بھی کر لیاگیا ہے۔ وہیں ہیلتھ سینٹ کے افسران نے کہا کہ جانچ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نابالغ بچی نے دیا بچے کو جنم، سامنے آیا ریپ اورہوا یہ سنسنی خیز انکشاف، اڑ جائیں گے ہوش

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز