ناندیڑ کے بازاروں میں عید کی خریداری پر مہنگائی اور نوٹ بندی کا اثر

Jun 22, 2017 04:04 PM IST | Updated on: Jun 22, 2017 04:04 PM IST

ناندیڑ۔ ماہ مقدس رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی عید کی خریداری نقطہ عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح ناندیڑ میں ان دنوں عید کی خریداری زور وشور سے جاری ہے ۔ روزہ ، نماز کے ساتھ ساتھ عید کیلئے درکار ضروری چیزوں کی خریداری کے لئے بازاروں میں کافی چہل پہل کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

ناندیڑ میں عیدخریداری کے لئے مینار گلی اورچوک کے علاقہ کو مرکزیت حاصل ہے ۔ یہ ایک ایسا مارکیٹ ہے جہاں لوگوں کی ضرورت کی تمام چیزیں ایک مقام پر مل جاتی ہیں ۔  اس لئےعید کی خریداری کے لئے شہر کے مختلف مقامات کے علاوہ دیہی علاقوں سے بھی کثیر تعداد میں لوگ یہاں آتے ہیں ۔ مرد و خواتین اپنی اپنی ضرورت کی چیزیں نہایت دلچسپی سے خرید رہے ہیں ۔

ناندیڑ کے بازاروں میں عید کی خریداری پر مہنگائی اور نوٹ بندی کا اثر

بچوں کے لئے کپڑے، چپل جوتےاور کھلونے خریدے جاتے ہیں ۔ جبکہ خواتین کی دلچسپی چوڑیاں خریدنے میں خاص ہوتی ہے ۔ اس بار چوڑیوں میں نئے نئے ڈیزائن کی چوڑیاں دستیاب ہیں ۔ رنگ برنگے ملبوسات بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ اسی مہینہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا ہے جس کی وجہ سے بچوں کے تعلیمی لوازمات خریدنے میں لوگوں کو کافی رقم خرچ کرنی پڑرہی ہے ۔ ایسے میں عید کی خریداری متاثر ہوئی ہے ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سال کاروبار میں کافی مندی کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لوگ کافی محتاط انداز میں خریداری کررہے ہیں ۔

nanded

خریداری کم ہونے کی دوسری اہم وجہ نوٹ بندی کے اثرات کو بھی بتایا جارہا ہے ۔ نوٹ بندی کے سبب بازاروں میں چھائی ہوئی مندی آج بھی پوری طرح سے کم نہیں ہوئی ہے ۔ بینک کےاے ٹی ایم مشینوں میں رقم نہیں ڈالی جارہی ہے جس کی وجہ سے لوگ دل کھول کر خریداری نہیں کرپا رہے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف مہنگائی کی بات کریں تو ہر طرف یہی شکایت ہے کہ چیزیں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں ۔ پچھلے سال کے مقابلے اس سال ہرچیزکے دام بڑھے ہوئے ہیں ۔ دام میں اضافہ کہیں تیس فیصد ہے تو کہیں اس سے زیادہ ۔ لیکن مہنگائی کے باوجود لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خریداری کررہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز