آر ٹی آئی میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا انکشاف ، آزاد امیدوار کا بٹن دبانے پر بی جے پی کو جا رہا تھا ووٹ

Jul 23, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 01:24 PM IST

ممبئی : الیکشن کمیشن کے دعووں کے برعکس مہاراشٹر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے چھیڑ چھاڑ کی بات ثابت ہوگئی ہے۔ یہی نہیں چھیڑ چھاڑ کی بات کا اعتراف خود ضلع کلکٹر نے کیا ہے ، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر ای وی ایم سے چھیڑ موضوع بحث بن سکتا ہے ۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن باربار مشین سے چھیڑ چھاڑ کے امکانات کو مسترد کرچکا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی نہیں الیکشن کمیشن اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے ہیکاتھون کا بھی انعقاد کرچکا ہے۔

مشین سے چھیڑ چھاڑ کا حق اطلاعات کے تحت ملی معلومات سے ہفتہ کو سنسنی خیز انکشاف ہوا۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلي نے بتایا کہ مہاراشٹر کے بلڈھانا ضلع میں حال ہی میں ہوئے ضلع پریشد کے انتخابات کے دوران لونار کے سلطان پور گاؤں میں ووٹنگ کے دوران ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی بات سامنے آئی۔ گلگلي نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ 'ووٹر جب بھی ایک آزاد امیدوار کو الاٹ انتخابی نشان ناریل کا بٹن دباتے تھے ، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی نشان کمل کے سامنے والا ایل ای ڈی بلب جل اٹھتا تھا۔ الیکشن افسر نے اس کی معلومات ضلع مجسٹریٹ کو دی، جس کا انکشاف آر ٹی آئی سے ملی معلومات میں ہوا۔

آر ٹی آئی میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا انکشاف ، آزاد امیدوار کا بٹن دبانے پر بی جے پی کو جا رہا تھا ووٹ

علاقہ کی ایک آزاد امیدوار امید ارون جورے نے 16 فروری کو ہوئی ووٹنگ کے دوران اس خرابی کی شکایت کی تھی اور الیکشن افسر سے معاملہ کی جانچ رپورٹ دینے کے لئے کہا تھا، جس کے بعد گلگلي نے 16 جون کو آر ٹی آئی داخل کی تھی۔ گلگلي نے بتایا کہ 'بلڈھانا کے ضلع الیکشن محکمہ سے آر ٹی آئی کے تحت ملی اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ لونار قصبہ کے سلطان پور گاؤں کے پولنگ اسٹیشن نمبر -56 پر ووٹر جب پہلے نمبرپر موجود آزاد امیدوار کے انتخابی نشان ناریل کا بٹن دباتے تھے، تو چار نمبر پر بی جے پی امیدوار کے انتخابی نشان کے سامنے والی بتی جلتی تھی اور اس طرح یہ ووٹ بی جے پی امیدوار کو چلا جاتا تھا۔

چونکانے والی بات یہ ہے کہ جب امید ارون نے ووٹ والنے دن صبح 10 بجے اس کی شکایت کی تو پولنگ اسٹیشن پر مقرر الیکشن افسران نے اس کا نوٹس لینے سے ہی انکار کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ آخر میں جب کئی ووٹروں نے ایسی ہی شکایت کی تب جاکر الیکشن افسر نے دوپہر 1.30 بجے اس کا نوٹس لیا اور کارروائی سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوںکی رضامندی لی ۔ شکایات کی جانچ کے بعد الیکشن افسر مانك راو باجد نے شکایت صحیح پائی، جس کی پولنگ مرکز کے الیکشن انچارج رام نارائن ساونت نے تصدیق کی۔ رام نارائن نے ہی لونار کے الیکشن افسر کو اس معاملہ کی اطلاع دی۔ لونار کے الیکشن افسر کے اسسٹنٹ اس کے بعد خود پولنگ بوتھ پہنچے اور مشین کی جانچ کی تو انہوں نے بھی پایا کہ ایک خاص امیدوار کے انتخابی نشان والا بٹن دبانے پر ووٹ بی جے پی امیدوار کو جا رہا ہے۔

حلقہ سے کئی الیکشن حکام کی طرف سے ضلع مجسٹریٹ کے پاس شکایت کے بعد اس پولنگ اسٹیشن پر ووٹ منسوخ کر دیا گیا، پولنگ مرکز کو بند کر دیا گیا، گڑبڑ والی ای وی ایم کو سیل کر دیا گیا اور متبادل کے طور پر رکھی گئی وی ایم مشین کو لگایا گیا، لیکن جب کئی سیاسی جماعتوں نے دوبارہ پولنگ کرائے جانے کا مطالبہ کیا تو ووٹنگ مکمل طور منسوخ کر کے پانچ دن بعد 21 فروری کو ووٹنگ کروائی گئی۔

گلگلي کے مطابق اس واقعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن ہے۔ ایک ووٹر نے پہلی مرتبہ اس جانب توجہ دلائی، جس کے بعد بہت سے ووٹروں نے اس کی تصدیق کی اور الیکشن افسر اور دیگر حکام نے شکایت کی توثیق کر کے ضلع مجسٹریٹ کو رپورٹ بھیجی۔ '

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز