Live Results Assembly Elections 2018

نوٹ بندی ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن، 100 لوگوں کی موت کا بیحد دکھ: منموہن سنگھ

ہفتہ کے روز گجرات کے سورت پہنچے سابق وزیر اعظم نے آٹھ نومبر دو ہزار سولہ کی تاریخ کو ہندوستان کے معاشی نظام اور جمہوریت کے لئے یوم سیاہ بتایا۔

Dec 02, 2017 09:10 PM IST | Updated on: Dec 02, 2017 09:10 PM IST

سورت۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نوٹ بندی پر ایک بار پھر مودی حکومت کو جم کر آڑے ہاتھوں لیا۔ ہفتہ کے روز گجرات کے سورت پہنچے سابق وزیر اعظم نے آٹھ نومبر دو ہزار سولہ کی تاریخ کو ہندوستان کے معاشی نظام اور جمہوریت کے لئے یوم سیاہ بتایا۔ یہاں ایک پریس کانفرنس میں منموہن سنگھ نے گزشتہ سال نومبر میں نافذ نوٹ بندی کے بعد بینکوں کے باہر قطار میں کھڑے سو لوگوں کی اموات پر اظہار افسوس کیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ آٹھ نومبر ہندوستان کے معاشی نظام اور جمہوریت کے لئے ایک کالا دن تھا۔ میں قطار میں کھڑے سو لوگوں کی موت سے بیحد دکھی ہوں۔ غور طلب ہے کہ آٹھ نومبر کی رات کو وزیر اعظم مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار روپئے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وہیں، جی ڈی پی کو لے کر منموہن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی مستقبل کے ترقی کے دعووں کو کافی بڑھاچڑھا کر پیش کررہے ہیں اور 2022تک یعنی آئندہ پانچ سال میں ہندستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے انھیں 35فیصد کی سالانہ شرح ترقی حاصل کرنی ہوگی جوکہ ابھی تک کوئی نہیں کرپایا ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر مودی اکثر کہتے ہیں کہ 70سال میں کچھ نہیں ہوا ہے۔آزادی کے وقت ملک میں لوگوں کی اوسط عمر 31سال ہوتی تھی جو اب 71سال ہوگئی ہے ۔خواندگی کی شرح 18سے بڑھ کر76فیصد ہوگئی ہے ۔ملک نے جو ترقی کی ہے اسکا سہرا عوام کے سر بندھتا ہے اور اس میں کانگریس حکومتوں کے ساتھ ہی ساتھ بی جے پی اور دیگر حکومتوں کا بھی تعاون ہے ۔ اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن مسٹر مودی کو بھیڑ کو متاثر کرنے کے لئے ملک کو بدنام کرنے کے بجائے دیگر قابل احترام طریقے اختیار کرنے چاہئیں ۔

نوٹ بندی ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن، 100 لوگوں کی موت کا بیحد دکھ: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ

انھوں نے کہا کہ انکی قیادت والی یوپی اے ۔1 اور 2حکومت کے دوران ملک کی جی ڈی پی کی اوسط شرح7اعشاریہ 8فیصد رہی تھی ۔جبکہ مسٹر مودی کی حکومت نے پچھلے تین سال میں 7اعشاریہ 3فیصدکی اوسط شرح حاصل کی ہے ۔مسٹر مودی جہاں ماضی کو بدنام کر رہے ہیں وہیں مستقبل میں ہونے والی ترقی کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔وہ 2022تک ہندستان کو ترقی یافتہ ملک بنانےکی بات کررہے ہیں اور اگرایسا ہوگا تومجھے سب سے زیادہ خوشی ہوگی۔ لیکن ایسا ہونے کے لئے ہندستان کو ہر سال 35فیصد کی شرح نموحاصل کرنی ہوگی ،کیا مودی جی ایسا کرپائیں گے ۔

انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کو یوپی اے حکومت جیسی شرح ترقی تک پہنچنے کے لئے بھی سخت محنت کرنی پڑیگی اور پھربھی مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوپائیگا۔ انھوں نے مودی حکومت میں زرعی ترقی کی شرح کے انکی حکومت کےمقابلہ میں کم ہوکرنصف ہوجانے پربھی نکتہ چینی کی ۔ انھوں نے اس سال کی دوسری سہ ماہی میں شرح ترقی کے بڑھنے کا خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معیشت میں بہتری آنے لگی ہے ۔شرح ترقی کے جائزے میں غیر منظم سیکٹر کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس پر نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی کا سب سے زیادہ منفی اثر پڑا ہے ۔ انھوں نے بینکوں کے احیا کے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی کے تجربوں سے سبق لیکر تفصیلی بحث ہونی چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز