موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں : سلمان خورشید

Apr 30, 2017 08:04 PM IST | Updated on: Apr 30, 2017 08:04 PM IST

جے پور: مسلمانوں کو موجودہ چیلنج کا مقا بلہ تعلیم سے کرنے پر زور دیتے ہوئے سابق وزیر خارجہ اور اقلیتی امورکے سابق مرکزی وزیر مسٹر سلمان خورشید نے کہاکہ وہی قوم اپنا وجود برقرار رکھتی ہے جو تعلیم کے راستے کو اختیار کرتی ہے۔ یہ بات آج یہاں ابوبکر صدیق بپلک اسکول کے افتتاحی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے آج کے حالات میں توازن کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ خوشی کی بات ہے کہ اس اسکول میں تینوں زبان عربی، اردو اور انگریزی پر یکساں زور دیا جا رہا ہے اور اس سے عصری اور دینی تعلیم کے درمیان جو دوری ہے اسے دور کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے مولانا فضل الرحیم مجددی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ انہوں نے دو سال قبل جے پور میں ہر سال اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں کام کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے اس لئے آپ حضرات تعلیمی کام کو بھی عبادت کا درجہ دیں۔ انہوں نے مولانا مجددی کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ جو چراغ آپ نے یہاں جلایا ہے وہ پورے ہندوستان میں جلے گا۔

موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں : سلمان خورشید

جامعۃ الہدایہ جے پور کے امیر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے اوروہی قوم اس دنیا میں آگے بڑھے گی جو تعلیم یافتہ ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان ہندوستان میں دلتوں سے بدتر اس لئے ہیں کیوں کہ وہ تعلیمی میدان میں پسماندہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے میدان میں مسلمان سب سے پچھڑے ہوئے ہیں جس کا ثبوت سچر کمیٹی کی رپورٹ ہے۔ انہوں نے سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سوشل بائبل قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مسلمانوں کے پسماندہ ہونے کا جو رجحان ہے وہ آنے والے وقت میں بدتر ہوجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ وہی ملک ترقی کرتا ہے جہاں کے سارے طبقے ترقی کرتے ہوں اور اگر ترقی کی دوڑ میں مسلمان پچھڑ گیا تو ملک بھی ترقی نہیں کرے گا اور نہ ہی سپر پاور بننے کا خواب پورا ہوگا۔ مولانا مجددی جو عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ چیرمین بھی ہیں اور جس کے تحت درجنوں ادارے چل رہے ہیں، نے کہاکہ اسلام میں تعلیم کی کس قدر اہمیت ہے اس کااندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ماں سے گود سے قبر تک علم حاص کرو۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بالغان کا تصور اسی حدیث سے ملتا ہے کیو کہ علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں طے کی گئی ہے۔

انہوں نے تعلیم کے میدان میں مسلما نوں کی شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب مسلمان تعلیم کے میدان میں سربلند تھے تو اس وقت انگلینڈ کے بادشا ہ نے اپنی شہزادیوں کو ترکی حصول علم تربیت کے لئے بھیجا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اسی لئے ہم امام ربانی پبلک اسکول سیریز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سیریز کے تحت ابوبکر صدیق پبلک اسکول ہے۔ عشرہ مبشرہ (دس صحابیوں) اور ام المومنات (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں) کے نام پربالترتیب لڑکوں اور لڑکیو ں کے اسکول کھولے جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز