مہاراشٹر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سینٹر کھولنے کیلئے فرنویس حکومت دے گی زمین

ایم آئی اے کے ایم ایل اے ایڈوکیٹ وارث پٹھا ن نے خلدآباد میں زمین الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،جس کے جواب میں ریاستی وزیربرائے اقلیتی امور اور تعلیم ونود تاوڑے نے وعدہ کیا

Apr 06, 2017 11:22 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 11:23 PM IST

ممبئی: آج یہاں مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کل ہند مجلس اتحاد مسلمین کے ایمایل اے ایڈوکیٹ وارث پٹھان کے ذریعہ اورنگ آباد کے قریب واقع خلدآباد میں علی مسلم یونیورسٹی کے مرکز کے لیے 200ایکڑ قطعہ اراضی دیئے جانے کے مطالبہ پر وزیرتعلیم ونود تاوڑے نے حمایت کرتے ہوئے زمین الاٹ کرنیکا وعدہ کیا۔ایوان میں ودیا پیٹھ بل پر بحث کے دوران وارث پٹھان نے معاملہ اٹھا۔ ایم آئی اے کے ایم ایل اے ایڈوکیٹ وارث پٹھا ن نے خلدآباد میں زمین الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،جس کے جواب میں ریاستی وزیربرائے اقلیتی امور اور تعلیم ونود تاوڑے نے وعدہ کیاکہ اس سلسلے میں حکومت جلداز جلد فیصلہ لے کر اے ایم یو سینٹر کے لیے زمین الاٹ کرے گی۔

واضح رہے کہ سابقہ یوپی اے سرکار کے دور میں اے ایم یو کے مرکز ملک میں کھولنے کا فیصلہ لیا گیا تھا اور مغربی بنگال کے مرشدآباد اور کیرالا کے مالاپورم کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر میں بھی 2009مرکز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس کے لیے کافی عرصہ لگ گیا کہ مہاراشٹر میں کہاں مرکز کھولا جائے ،سابق ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور عارف نسیم خان نے اورنگ آباد کے قریب خلدآباد میں مرکز کھولنے کا فیصلہ کیا تھا ،وہ سینٹر کسی بڑے شہر کے آس پاس کھولنے کے حق میں تھے۔اور انکی کوششوں سے خلدآباد میں زمین کا جائزہ بھی لے لیا گیا تھا ۔اس مرکز کیلیے پونے ،نوی ممبئی اور ناگپورکے نام بھی زیر غور رہے ۔

مہاراشٹر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سینٹر کھولنے کیلئے فرنویس حکومت دے گی زمین

بتایا ہے کہ مرکزی سرکار نے ان تینوں ریاستوں کے مراکز کیلئے 25کروڑ روپے منظور کیے تھے۔سابق کانگریس ۔این سی پی سرکار کی سردمہری کے سبب کام آگے نہیں بڑھا حالانکہ سابق وزیر عارف نسیم خان ی اس میں خاصی دلچسپی رہی تھی۔ ایم ایل اے وارث پٹھان نے اس موقع پر کہاکہ سابق سرکار کی سست روی کے بعد اب بی جے پی کی حکومت کے وزیر تعلیم نے زمین دینے کی بات کہی ہے جوکہ ایک نیک شگون ہے۔امید ہے کہ حکومت فوری طورپر خلدآباد میں نشاندہی کی جانے والی زمین کو اے ایم یو انتظامیہ کو سون دے تاکہ مزید کارروائی شروع ہو۔یہ اچھی بات ہے کہ موجودہ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ پر عمل کررہی ہے۔لیکن یہ سچ تب ثابت ہوگا جب بی جے پی حکومت زمین الاٹ کرے۔

مہاراشٹر اے ایم یو مرکزکے قیام کے لیے زمین الاٹ کرنے کے وزیرتعلیم کے وعدے پر مسرت اظہارکرتے ہوئے بی جے پی کے سنیئر لیڈر محمد فاروق اعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کے نعرہ پر عمل پیرا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بی جے پی حکومت نے ہرممکن طورپر سبھی فرقوں کی سماجی ،تعلیمی اور اقتصادی ترقی وبہبود کیلیے کام کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں سبھی فرقو ں اور مذاہب کے ماننے والوں نے ووٹ دیا ہے،اب لوگ وعدوں کو تسلیم نہیں کرتے ہیں بلکہ عمل چاہتے ہیں اور بی جے پی نے یہ سب کردکھایا ہے۔

معروف سماجی کارکن اور تعلیمی میدان میں سرگرم سلیم الوارے نے اسے ایک اچھا قدم قراردیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک عرصے سے مہاراشٹر کے مسلمانوں اے ایم یو کے لیے مرکز کے خواہش مند تھے اور آج کا ونود تاوڑے کابیان امید افزاء ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے چند لوگوں کی انتہاپسند ی کے علاوہ ریاست میں حالات بہتر رہے ہیں اور کئی مواقع ایسے آئے ہیں جب ریاستی سرکار کے افسران اور عہدیداروں نے اقلیتی فرقے کے طلباء اور نوجوانوں کی ہرممکن مدد کی جیسے امتحان گاہ میں برقعہ کے مسئلہ کو بخوبی حل کیا اور علی مسلم یونیورسٹی کے سینٹر کے بارے میں ایوان میں مثبت بیان سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ حکومت جلد زمینالاٹ کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز