راجستھان میں مسلم عورتوں کے دستخط کی مبینہ فرضی مہم سے خبردار رہنے کی تلقین

Apr 11, 2017 05:51 PM IST | Updated on: Apr 11, 2017 05:51 PM IST

نئی دہلی۔  راجستھان میں کچھ تنظیمیں گھر گھر جا کرمسلم خواتین کے درمیان ’’شناخت شدہ دستخطی مہم‘‘ چلا رہی ہیں ۔ ان دستخطوں سے طلاق مخالف پروپگنڈے میں حربے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ اس اندیشے کےاظہار کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے جے پور سے فون پر یو این آئی اردو سروس کو بتا یا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے یا ان کی دانست میں کسی مسلم ادارے نے ایسی کسی مہم کی منظوری نہیں دی۔

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ دستخطی مہم چلانے والی مسلم یا غیر مسلم تنظیمیں مسلمان عورتوں سے مبینہ طور پر ان کے شناخت ناموں [آئی کارڈ] کی تفصیل بھی معلوم کر رہی ہیں، الزام لگایا کہ فی خاتون ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کے وعدے کے ساتھ دستخط سادہ کاغذ پر کرائے جارہے ہیں جن پر بعد ازاں متعلقہ خواتین کی طرف سے یہ لکھ دیا جا سکتا ہے کہ وہ تین طلاق کے خلاف ہیں۔

راجستھان میں مسلم عورتوں کے دستخط کی مبینہ فرضی مہم سے خبردار رہنے کی تلقین

مسلم خواتین: علامتی تصویر

مولانا مجددی نے ریاست کے ملی ذمہ داروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کو ایسی کسی جعلسازی کا شکار نہ ہونے دیں اور عام بیداری پیدا کر یں تاکہ لوگ کسی لالچ میں نہ پھنسیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز