ایک ہزار روپئے سے شروع ہوئی کمپنی اب 6 لاکھ کروڑ کا امپائر بن چکی ہے: مکیش امبانی

ممبئی۔ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) کمپنی کی شکل میں اپنے 40 سال پورے ہونے کا جشن منا رہی ہے۔

Dec 23, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Dec 23, 2017 08:35 PM IST

ممبئی۔ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) کمپنی کی شکل میں اپنے 40 سال پورے ہونے کا جشن منا رہی ہے۔ اس کے لئے ممبئی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی سمیت اس کے سبھی بڑے اہلکار موجود رہے۔ آر آئی ایل 23 دسمبر کو ریلائنس فیملی ڈے (آر ایف ڈی) کے طور پر منا رہی ہے۔ اس کے لئے نوی ممبئی واقع ریلائنس کارپوریٹ پارک میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس میں کمپنی کے ملازمین اور ان کے گھرانوں نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان سمیت کچھ فلم ستارے بھی شامل ہوئے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس آج ایک ملازم سے بڑھ کر 2.5 لاکھ کا خاندان بن گیا ہے۔ کمپنی ایک ہزار روپئے سے بڑھ کر 6 لاکھ کروڑ کی کمپنی بن گئی ہے۔ ایک شہر سے پھیل کر 28 ہزار شہروں / قصبوں اور 4 لاکھ گاؤں تک پہنچ گئی  ہے۔ یہ سب صرف دھیروبھائی امبانی کی وجہ سے ہو سکا ہے۔

ایک ہزار روپئے سے شروع ہوئی کمپنی اب 6 لاکھ کروڑ کا امپائر بن چکی ہے: مکیش امبانی

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس آج ایک ملازم سے بڑھ کر 2.5 لاکھ کا خاندان بن گیا ہے۔

معروف فلم اداکار امیتابھ بچن نے کہا کہ دھیروبھائی کا خیال تھا کہ لوگوں میں خوشی کے ساتھ ساتھ اپناپن بانٹنے سے بھروسہ بڑھتا ہے۔ شاید، اسی لئے انہوں نے اپنی کمپنی کا نام دیا۔ ریلائنس یعنی بھروسہ۔

پروگرام کے آغاز میں ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے ریلائنس کو قائم کرنے والے دھیرو بھائی امبانی کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا، " ریلائنس ایک شخص کے ویژن کا نتیجہ ہے۔ میرے والد اور ہمارے بانی دھیرو بھائی امبانی۔ گزشتہ چالیس برسوں میں ہم نے جتنی ترقی کی ہے، وہ انہیں کی بدولت ہے۔ ریلائنس ان کے مضبوط کندھوں پر کھڑا ہے۔

Loading...

امیتابھ بچن نے کہا زندگی میں ایک دور ایسا آیا جب میں دیوالیہ ہو گیا۔ قرض چڑھ گیا۔ بغیر کوئی سوال پوچھے انہوں نے انل امبانی سے کہا اس کا برا وقت ہے، اسے کچھ پیسے دے دو۔ جتنا وہ دینا چاہ رہے تھے اس سے میری ساری پریشانی ختم ہو جاتی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ میں نے ان سے پیسے نہیں لئے اور کچھ وقت بعد مجھے کام ملنا شروع ہو گیا اور میں بحران سے باہر آ گیا۔

امیتابھ نے مزید کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ دھیروبھائی امبانی کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے، ان کی زندگی تو ایک کتاب ہے۔ اس طرح ہم بار بار ان کے بارے میں کیوں پڑھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب ہم گیتا کو بار بار پڑھتے ہیں، تو ہر بار ہمیں ایک نئی سوچ ملتی ہے۔ دھیرو بھائی کی زندگی گیتا مقصد سے کم نہیں تھی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز