داود ابراہیم نے پاکستان میں بنارکھا ہے "سیف ہاوس "، سرنگ کے ذریعہ کچھ ہی گھنٹوں میں پہنچ سکتا ہے دبئی

Mar 14, 2018 06:21 PM IST | Updated on: Mar 14, 2018 06:21 PM IST

ممبئی : انڈر ورلڈ ڈان داود ابراہیم کے دائیں ہاتھ فاروق ٹکلا نے سی بی آئی کی پوچھ گچھ میں کئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں ۔ فاروق ٹکلا نے سی بی آئی کو بتایا ہے کہ ہندوستان جانچ ایجنسیاں غلط فہمی میں ہیں کہ داود ابراہیم کمزور ہوچکا ہے یا اب کسی کام کا نہیں ہے ۔ فاروق کے مطابق داود آج بھی بے خوف پاکستان کے کلفٹن ایریا میں سخت بندو بست کے درمیان رہتا ہے۔ اس کیلئے ایک ایسا سیف ہاوس (محفوظ گھر ) بھی تیار کیا گیا ہے ، جس کی معلومات آئی ایس آئی کے چنندہ لوگوں کو چھوڑ کر کسی کو نہیں ہے۔

فاروق ٹکلا نے مزید بتایا کہ داود کراچی کے کلفٹن ایریا میں رہتا ہے اور اسے اور اس کے پورے کنبہ کو پاکستانی فوج کے رینجرس کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے ۔ اس کے گھر میں بنائے گئے کنٹرول روم کے ذریعہ اس کے پورے بنگلہ سمیت آس پاس کے علاقہ میں سرولانس سسٹم سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔

داود ابراہیم نے پاکستان میں بنارکھا ہے

فاروق ٹکلا پولیس حراست میں ۔ فائل فوٹو

کچھ ایسے کی جاتی ہے داود کی حفاظت

تفتیش کے دوران ٹکلا نے بتایا کہ انڈر ورلڈ ڈان داود ابراہیم کیلئے بنائے گئے اس سیف ہاوس کا استعمال ایمرجنسی کی حالت میں داود کو بچانے اور بھگانے کیلئے 'ـ"اسکیپ روٹ "کی شکل میں کیا جاتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ داود ہمیشہ کراچی کے کلفٹن ایریا میں ہی رہتا ہے ، مگر جب بھی کوئی عالمی لیڈر پاکستان آتا ہے تو اسے کلفٹن ایریا سے کچھ کلو میٹر دور "انڈا گرپ آف آئی لینڈس "پر بنے ایک سیف ہاوس میں منتقل کردیا جاتا ہے ۔ جب ہندوستان اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارم سے داود کے کلفٹن ایریا والے گھر کا انکشاف کرتا ہے ، تب بھی داود کو یہاں سے کچھ وقت کیلئے نکال دیا جاتا ہے۔

پاک افسران کے رابطہ میں رہتا ہے داود

انڈا گروپ آف آئس لینڈ پر بنے سیف ہاوس میں داود کی سیکورٹی پاکستانی کوسٹ گارڈ کی ایک ٹیم کرتی ہے اور اس دوران پاکستانی کوسٹ گارڈ کا ایک شپ سیف ہاوس کے چاروں طرف گشت کرتا رہتا ہے اور اس سیف ہاوس سے داود پاکستانی افسران سے سٹیلائٹ فون کے ذریعہ مسلسل رابطہ میں رہتا ہے۔ یہ سیف ہاوس اس بنکر کی طرح کام کرتا ہے جہاں پر نہ صرف داود کو صحیح سلامت محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ کسی ناگہانی صورت میں محض چند گھنٹوں میں اسے سیف ہاوس سے سمندر کے راستے دبئی منتقل کیا جاسکتا ہے۔

ہندوستان میں آخری سانس لینا چاہتا ہے داود

داود ابراہیم کی آخری خواہش کے سلسلہ میں ٹکلا نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس ہندوستان میں لینا چاہتا ہے ، لیکن یہ خواہش وہ آئی ایس آئی یا پھر کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتا ۔ سی بی آئی تفتیش کے دوران ٹکلا نے بتایا کہ سال 2003 اور سال 2005 میں داود پر حملہ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتارنے کی بھی کوشش کی گئی ۔ پاکستان کے مقامی غنڈوں نے داود کو مارنے کی سپاری لی تھی اور اس جزیرہ کے نزدیک تک پہنچ گئے تھے ، جہاں داود کو ایک سیف ہاوس میں رکھا گیا تھا ، لیکن پاکستانی فوج کے جوانوں نے داود کو بچالیا ۔ اس کے علاوہ چھوٹا راجن کے لوگوں نے بھی اسے مارنے کی کم سے کم چھ مرتبہ کوششیں کیں ۔ چھوٹا راجن کا کارندہ فرید تناشا اس سلسلہ میں کئی مہینے تک پاکستان میں رہا ، لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز