ناندیڑ میں بچت گٹ کے ذریعہ قرض لینے والی خواتین نے لگایا جسم فروشی پرمجبور کرنے کا الزام

Jan 25, 2017 08:41 PM IST | Updated on: Jan 25, 2017 08:41 PM IST

ناندیڑ۔ ناندیڑ میں بچت گٹ کے ذریعہ قرض لینے والی خواتین کو استحصال کا شکار بننا پڑرہا ہے ۔ قرض کی ادائیگی میں پیش آرہیں مشکلات کا فائدہ اٹھا کر مقروض خواتین کو جسم فروشی پرمجبور کیا جا رہا ہے ۔اس طرح کی سنگین شکایتیں متاثرہ خواتین نے ناندیڑ کے ضلع کلکٹر کے پاس کی ہیں ۔ سود کی لعنت سے پریشان خواتین نے ضلع کلکٹر سے ملاقات کی اور فائنانس کمپنیوں کی جانب سے ہورہے استحصال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ متاثرہ خواتین نے ضلع کلکٹر سے ملاقات کی اور اپنے ساتھ پیش آ رہے مسائل سے انہیں واقف کروایا ۔ مجبور خواتین اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان سے قرض حاصل کرتی ہیں لیکن قرض وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں صرف سود کی اضافی رقم ہی نہیں ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ اپنی عزت کو بھی داؤں پر لگانا پڑرہا ہے ۔

 بچت گٹ سے وابستہ خواتین کو نجی فائنانس کمپنیاں قرض دے رہی ہیں ۔ ایسے ہی چند اداروں سے ان خواتین نے قرض حاصل کیا تھا ۔ نوٹ بندی کے سبب کاروبار ٹھپ پڑگئے نتیجہ میں قرض کی ادائیگی کا کوئی بندوبست نہیں ہوپا رہا ہے ۔

ناندیڑ میں بچت گٹ کے ذریعہ قرض لینے والی خواتین نے لگایا جسم فروشی پرمجبور کرنے کا الزام

حالانکہ حکومت نے ساہوکاری کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود ساہوکاری نظام ابھی بھی سرگرم ہے ۔بچت گٹوں اور ساہوکار سیٹھوں کے مطالبوں سے برہم خواتین نے بھاریپ بہوجن مہاسنگھ کے بینر تلے ضلع کلکٹر سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد ضلع کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا گیا جس میں سود خوری میں مبتلا ء فائنانس کمپنیوں کی جانب سے کیے جارہے غیر قانونی مطالبوں سے خواتین کو بچانے کی مانگ کی گئی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز