فارم فیس کے نام پر وصول کی گئی دو کروڑ سے زیادہ کی رقم مدرسہ بورڈ راجستھان کے پاس

Mar 04, 2017 08:37 PM IST | Updated on: Mar 04, 2017 08:38 PM IST

جئے پور۔ راجستھان اسمبلی میں  ایک سوال کے جواب میں پول کھلی کہ مدرسہ بورڈ کی کی جس بھرتی کے نام پر حکومتوں کی جانب سے مدارس کی بدحالی دور کرنے اور مسلم معاشرے کو روزگار دینے کی باتیں حکومتیں کرتی ہیں،  انہیں سے روزگار کے نام پر مختلف بھرتیوں کے لیے فارم فیس کے نام پر  ڈھائی کروڑ روپے اقلیتی معاملات کے محکمہ نے لے رکھا ہے ۔ آخر مدرسوں میں بھرتی کو لے کر حکومت کا رخ ہے کیا لیکن اسمبلی میں جب ممبراسمبلی گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے سوال اٹھایا کہ مدرسہ بورڈ میں خالی عہدوں پر بھرتی کی کام کی منصوبہ بندی کیا ہے تو جواب میں بہت سے معاملات سے پردہ اٹھا ہے ۔

اسمبلی میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ سال 2013 میں اقلیتی معاملات کے سیکشن اور مدرسہ بورڈ میں بھرتی کیلئے درخواست مانگے گئے تھے؟ اگر ہاں، تو کب اور کن کن عہدوں کےلیے کتنی - کتنی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئیں اور ان کے ساتھ کتنی فیس کی رقم جمع ہوئی؟  تفصیل ایوان کی میز پر رکھیں ۔ اس کے جواب میں ریاستی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ جی ہاں یہ درست ہے کہ سال 2013 میں 80 اسسٹنٹ ملازمین کی بھرتی کیلئے اقلیتی معاملات کے سیکشن کی طرف ریلیز نمبر 6032 تاریخ 07.05.2013 جاری کر درخواست مدعو کئے گئے تھے، جس کے لئے میں 26 ہزار 158 درخواستیں موصول ہوئیں اور فی درخواست 30 روپے فیس مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح کل رقم 7 لاکھ 84 ہزار 740.00 جمع ہوئی ۔  مدرسہ تعلیم معاونین کے 6000 عہدے کی بھرتی کی درخواستوں مدعو شدہ تھے۔ جس کی ریلیز نمبر 1/2013 تاریخ 02.08.2013 کو کی گئی۔ 6000 مدرسہ تعلیم اسسٹنٹ کے لیے کل 23 ہزار 305 درخواست خط موصول ہوئیں ۔ ان فارم کے ساتھ کل 47 لاکھ 74 ہزار 230 روپے کی فیس حاصل ہوئی ۔ مدرسہ بورڈ 3326 اردو تعلیم ساتھیوں کی بھرتی کے لیے کل 14859 درخواست خط موصول ہوئیں۔  کمپیوٹر تعلیم ساتھی کے 2500 مراسلات کی بھرتی کے لیے 49557 درخواست خط موصول ہوئی تھیں ، جن سے ساتھ مذکورہ  کل 1 کروڑ 93 لاکھ 24 ہزار 800 فارم فیس وصول ہوئی ۔

فارم فیس کے نام پر وصول کی گئی دو کروڑ سے زیادہ کی رقم مدرسہ بورڈ راجستھان کے پاس

بھرتی کے لئے وصولی گئی رقم، کل درخواست، اور خالی جگہوں کو بھرنے پر حکومت کا کیا رخ ہے۔ اس کو لیکر اقلیتی معاملات کے سیکشن اور مدرسہ بورڈ کے تعلق سے یہ سوال ایوان میں پوچھا گیا کہ کیا یہ بھی درست ہے کہ محکمہ کی طرف سے اب تک نہ تو بھرتی امتحان منعقد ہوا نہ ہی ایپلی کیشنز کی درخواست رقم لوٹائی گئی؟ اگر ہاں، تو کیوں اور اس کے لئے ذمہ دار افسر کے خلاف حکومت کی طرف سے اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟ تفصیل ایوان میں پیش ہو۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ درخواست خطوط سے حاصل رقم کی تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ ملازم کے فارم کے ساتھ 7 لاکھ 84 ہزار 740 روپے، مدرسہ شکشا سہیوگی کے فارم کے ساتھ 47 لاکھ 74 ہزار 230 روپے ، اردو شکشا سہیوگی اور کمپیوٹر شکشا سہیوگی کی بھرتی فارم سے 1 کروڑ 93 لاکھ 24 ہزار 800 حاصل ہوئے۔ اس طرح  ان درخواستوں کے ساتھ حاصل  کل رقم 2 کروڑ 48 لاکھ 83 ہزار 770 روپے حاصل ہوئی ہے۔

مدارس کے معاملے میں پوچھے گئے اس سوال میں  کہ گزشتہ تین سال میں مدرسہ بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی بھرتیوں کے  بار بار زیر التوا رہ جانے کی وجہ  کیا ہے ؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ  اسسٹنٹ ملازم  کے80 عہدے کے لیے انٹرویو اور امتحان منعقد کیے گئے تھے۔ راجستھان چہارم قسم کی خدمت داخل نيم کے  لیے 1999 کے تحت منتخب کمیٹی کی طرف سے درخواست گزاروں نے انتخاب کے لئے طے شدہ معیار درست طور پر نہیں اپنایااور  نتیجہ  فیڈ کرنے کا کام پرائیویٹ ادارے کی طرف سے کرنے کی وجہ سے نتائج کا اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔  مذکورہ خالی عہدوں کو بھرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ وہیں مدرسہ شکشا سہیوگی کے 6000 پوسٹ پر سیدھی داخل درخواستیں مدعو شدہ تھیں۔ ان عہدوں کیلئے میرٹ اور تجربے کی بنیاد پر منتخب کیا جاناتھا ان عہدوں پر بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے سے پہلے ہی 272 درخواست گزاروں نے  ہائی کورٹ جودھپور اور جے پور بینچ میں رٹ  دائر کر دی۔  جس کے نتیجے میں بھرتی کا عمل التواکا شکار ہو گیا۔ عدالتوں میں دائردرخواستوں میں آخری فیصلہ ہونے تک بھرتی کے عمل کو روكے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ مدرسہ اردو شکشا سہیوگی کے 3326 عہدوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیاجا چکا ہےتو  کمپیوٹر شکشا سہیوگی کی 2500 پوسٹوں کی ضرورت صرف اعلی بنیادی سطح کے لئے ہونے کی بنیاد پر مذکورہ قسم کے مدرسے کافی کم ہونے اور تمام مدارس کے ڈیٹا كیپچر کا کام مکمل نہیں ہونے اور کمپیوٹر لرننگ پروگرام کی طرف سے اردو تعلیم ساتھیوں کو تربیت دلا کر کمپیوٹر شکشا سہیوگی کا کام ترمیم کروانےکی بنیاد پر مذکورہ عہدوں کی بھرتی کیوں ملتوی رکھی گئی ہے۔

ameen qaim khani

ایوان میں ملے جواب میں صاف ہو گیا کہ بھرتی کے مدرس اردو شکشا   سہیوگی کے علاوہ تمام بھرتیاں  ہوا میں جھول رہی ہیں۔ اسسٹنٹ ملازم کے 80 عہدے اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں ۔ مدرسہ شکشا سہیوگی کے 6000 عہدے معاملہ عدالت میں جانے کی وجہ سے ٹھنڈے بستے میں چلے گئے ہیں جبکہ کمپیوٹر شکشا سہیوگی کے 2500 کے عہدے پر خود محکمہ ہی بھرتی کی منشا نہیں رکھتا ہے ۔ اور پردیش کے چھ ہزار مدرسہ شکشا سہیوگی میں سے ہی 2500 کو ٹریننگ دے کر کمپیوٹر تعلیم ساتھی ایڈجسٹ کر ئے جانے کا پلان ہے ۔ اس پورے معاملے میں کھیل ختم ۔ پیسہ ہضم  کی کہاوت   تب صادق ہوئی جب پیسے واپسی  کے سوال پر محکمہ نے جواب دیا کہ ریلیز کے مطابق  تمام درخواستیں فیس نان رفنڈیبل ہونے کی وجہ سے رقم واپس نہیں گئی ہے۔ مطلب درخواست کے نام پر وصول کیے گئے ڈھائی کروڑ روپے بھی گئے اور بھرتياں بھی نہیں ہوئیں ۔ وہیں ذمہ دار حکام پر کارروائی کے سوال پر محکمہ نے جواب دیا کہ مندرجہ بالا بیان حالات کی بنیاد پر کسی افسر کے دوش ظاہر نہیں ہونے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

ایک طرف مدرسہ بورڈ گزشتہ کئی سال سے اپنا ایکٹ نہیں ہونے کی وجہ سے سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ دوسری طرف آئے دن مدارس کی تحقیقات کے سوال پر ویسے ہی مدرسوں کو کمزور کر دیا ہے۔  گزشتہ دنوں 729 مدرسوں کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا تھا ۔ ایسے میں مدارس ماڈرنائزیشن کے لیے کئی جگہ کمپیوٹر تو تقسیم کیے جا رہے ہیں لیکن معیار کے ٹیچر کی بھرتی کے بغیر مدرسوں کو ہائی ٹیک کرنے کی کوشش پر برسوں سے اٹھ رہے سوالات اور ان سوالات کے جواب جو سامنے ہیں ، ایسے میں ریاست میں مدرسہ تعلیم کس طرح مضبوط ہوگی یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے ۔

ارباز احمد کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز