لوکل ٹرین کی پہلی مسلم خاتون ڈرائیور ممتاز قاضی کو صدرجمہوریہ نے دیا ناری شکتی پرسکار

Mar 09, 2017 12:38 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 12:38 PM IST

ممبئی: ممبئی کی موٹروومین ممتاز ایم قاضی، جنہیں تین سال پہلے ایشیا کی پہلی خاتون ڈیزل انجن ڈرائیور ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا، بدھ کو صدر پرنب مکھرجی نے انہیں ناری شکتی پرسکار سے نوازا۔ اس سال مختلف شعبوں سے سات خواتین کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس ایوارڈ کے تحت ایک لاکھ روپے اور ایک توصیفی سند سے نوازا گیا ۔

اس موقع پر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ میں ہندستان کی ان خواتین اور تنظیموں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ،جنہوں نے آج قومی ایوارڈ ، ناری شکتی پرسکار ، حاصل کیا ہے۔ انہوں نے چیلنجوں سے نبردآزما ہوکر اور اپنی بلند آرزوؤں کو حقیقت کا روپ دیکر خود کو ممتاز ثابت کیا ہے۔ کامیابی کی ہر کہانی کے پیچھے بے پناہ عزم اور حوصلہ کارفرما ہے ۔ ہندستان میں خواتین کوبااختیار بنانے کی بحث ہندستان کے ایک جمہوریہ بننے سے قبل ہی شرو ع ہوگئی تھی۔ ہمارا آئین اور اس میں شامل رہنما ہدایات نے ہماری حکومتوں کو پالیسی اور منصوبہ سازی کے لئے واضح رہنما ہدایات دیتی ہیں۔ ہماری کامیا بیوں نے ہمارے سماج کو ایک منفرد طریقے سے پروان چڑھنے میں مدد کی ہے۔ اب خواتین کو صرف فلاحی فوائد حاصل کرنے والوں کی شکل میں نہیں دیکھا جا تا۔ بلکہ انہیں مساوی حقوق ، برابر کی شراکت دار اور ملک کے سماجی ، اقتصادی ، ثقافتی اور سیاسی عمل میں تبدیلی لانے والا عنصر خیال کیا جاتا ہے۔

لوکل ٹرین کی پہلی مسلم خاتون ڈرائیور ممتاز قاضی کو صدرجمہوریہ نے دیا ناری شکتی پرسکار

صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ سیاسی میدان میں خواتین نے زبردست پیش قدمی کی ہے۔ جس سے سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کو کم کرنے میں موثر مدد ملی ہے اور وہ بے غرضی کے ساتھ ترقی اور قوم کی تعمیر کےاہداف کو حاصل کرنے کےلئے کام کررہی ہیں۔ بلدیاتی حکمرانی کے نظام میں دیہی ہندستان میں ایک ملین (دس لاکھ) سے زیادہ خواتین نے اقتدار و ذمہ داری والی پوزیشن کو موثر طریقے سے سنبھالا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو موثر طریقے سے انجام دے رہی ہیں جس کے نتائج بھی قابل تعریف رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں سرگرم عمل ان خواتین کی تعداد مقررہ 33 فی صد کے کوٹے سے کہیں زیادہ ہے۔ دفاعی خدمات ، پولیس اور حفاظتی دستوں ، کھیلوں ، اکیڈمکس ، خلائی تحقیق اور اختراعات جیسے چیلنجنگ شعبوں ، خطرات اور استحصال کے شکار افراد کے کاز کو آگے کو بڑھانے ، کمیونٹی آؤٹ ریچ اور عوامی صحت سے متعلق اقدامات نے اچھے ٹیم ورک اور کامیابی کے لئے خواتین کی موجودگی ناگزیر ہے۔ اکثر ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ خواتین کے ساتھ اکثر تفریق اور ا متیاز برتا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سچائی یہ ہے کہ انہوں نے ان حالات پر قابو پایا ہے اور جہاں دوسروں کو تحریک دی ہے وہی عزت واحترام بھی حاصل کیا ہے۔

mumtaz

قابل ذکر ہے کہ ممتاز (45) کو کئی طرح کی ریل گاڑیاں چلانے میں مہارت حاصل ہے۔ فی الحال ممتاز چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس-تھانے سیکشن پر وسطی ریلوے کی مضافاتی لوکل ٹرین کو چلاتی ہیں ، جو کہ خاتون ڈرائیور کے ذریعہ چلائے جانےوالا اب تک کا ہندوستان کا پہلا اور سب سے گنجان ریلوے روٹ ہے۔ مرکزی ریلوے کے افسر نے بتایا کہ مسلم کنبہ سے آنے والی قاضی تقریبا 25 سالوں سے ٹرین کے انجن کی ڈرائیور رہی ہیں اور ملک کی لاکھوں خواتین ان سے ترغیب حاصل کر رہی ہیں۔

تاہم یہ سب کچھ ممتاز کے لئے بالکل آسان نہیں تھا ۔ ان کی مخالفت کرنے والا پہلا شخص ان کے والد ہی تھے ، جو ایک سینئر ریلوے ملازم تھے۔ لیکن کچھ خاندانی دوستوں اور ریل حکام نے انہیں ممتاز کو خواب پورا کرنے دینے کیلئے راضی کرلیا ۔اب پورا خاندان ممتاز پر فخر کرتا ہے۔ وہ سائن میں رہتی ہیں۔ انہوں نےنندوربار کے ایک بجلی انجینئر مقصود قاضی سے شادی کی ہے، جس سے ان کو ایک 14 سالہ بیٹا اور 11 سالہ بیٹی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز