مودی- شاہ کے لئے وقار کی جنگ، گجرات اسمبلی انتخابات میں پہلے مرحلہ کیلئے ووٹنگ جاری

گاندھی نگر۔ گجرات اسمبلی کے لئے پہلے مرحلے میں جنوبی اور سوراشٹر علاقے کے 19 اضلاع کی 89 سیٹوں پر آج صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہو گئی۔

Dec 09, 2017 09:28 AM IST | Updated on: Dec 09, 2017 10:26 AM IST

گاندھی نگر۔ گجرات اسمبلی کے لئے پہلے مرحلے میں جنوبی اور سوراشٹر علاقے کے 19 اضلاع کی 89 سیٹوں پر آج صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہو گئی۔ اس میں خود وزیر اعلی وجے روپاني اور 22 سال سے ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی کے ریاستی صدر جیتو واگھاني سمیت کئی سابق لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ صبح سے ہی کئی مقامات پر ووٹروں کی لمبی قطاریں ہیں۔ مسٹر روپاني نے ووٹنگ کے لئے نکلنے سے پہلے راجکوٹ کے مندر میں پوجا کی اور لوگوں سے جمہوریت کے اس تہوار میں بڑی سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔کچھ مقامات پر ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کے سبب پولنگ شروع ہونے میں تاخیر کی بھی اطلاع ہے۔2012 کے گزشتہ انتخابات میں (درمیان میں ہونے والے کچھ ضمنی انتخابات کو چھوڑ) بی جے پی نے ان میں سے 63، کانگریس نے 22، بعد میں بی جے پی میں ضم ہوجانے والی کیشو بھائی پٹیل کی ’گجرات پریورتن پارٹی‘ نے دو،نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور جے ڈی یو نے ایک ایک پر کامیابی حاصل کی تھی۔

سوراشٹر علاقے کے 11 اضلاع کی 49 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 31 کانگریس نے 15، این سی پی نے ایک اور گجرات پریورتن پارٹی نے دو، جنوبی گجرات کے سات اضلاع کی 34 میں سے 27 پر بی جے پی، چھ پر کانگریس اور ایک پر جے ڈی یو اور کچھ ضلع کی چھ میں سے پانچ پر بی جے پی اور ایک پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی۔وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی آبائی ریاست میں ہو رہے انتخابات کے لئے اس بار مسٹر مودی اور مسٹر شاہ  ریاست کے تابڑ توڑ انتخابی دورے کر رہے ہیں اور جلد ہی کانگریس صدر عہدہ سنبھالنے جا رہے راہل گاندھی کے درمیان وقارکی براہ راست جنگ  قرار دیا جا رہا ہے۔

مودی- شاہ کے لئے وقار کی جنگ، گجرات اسمبلی انتخابات میں پہلے مرحلہ کیلئے ووٹنگ جاری

اس میں خود وزیر اعلی وجے روپاني اور 22 سال سے ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی کے ریاستی صدر جیتو واگھاني سمیت کئی سابق لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔

چیف الیکشن افسر بی بی سوین نے بتایا کہ پرامن پولنگ کے لئے نیم فوجی دستوں سمیت کل ملا کر پونے دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کئے گئے ہیں. اس کے علاوہ پولنگ کے کام میں2.41 لاکھ اہلکار بھی لگائے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے کے لئے بنائے گئے 24689 پولنگ مراکز پر وی وی پیٹ کے ذریعے پولنگ ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 57 خواتین سمیت کل 977 امیدوار میدان میں ہیں۔ برسراقتدار بی جے پی نے تمام 89 سیٹوں پر جبکہ اپوزیشن کانگریس نے 87 سیٹوں پر امیدوار اتارے ہیں۔ بی ایس پی نے 64، ایس پی نے چار، شنكرسنگھ واگھیلا کے’جن وکلپ مورچہ‘ نے 48، آپ نے 21، جے ڈی یو نے 14، این سی پی نے 30 اورشیوسینا نے 25 امیدوار اتارے ہیں. 443 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں.

پہلے مرحلے میں اہم چہروں میں راج کوٹ مغربی سیٹ سے وزیر اعلی مسٹر روپاني، بھاؤنگر مغرب سے بی جے پی ریاستی صدر جیتو واگھاني، پوربندر سے بی جے پی کے بابو بوكھريا اور کانگریس کے سابق ریاستی صدر ارجن موڈھواڈيا اور مانڈوي سے کانگریس کے شكتی سنگھ گوہل شامل ہیں.کل 182 سیٹوں والی اسمبلی کی باقی 93 نشستوں (شمال اور وسطی گجرات کے 14 اضلاع کی) پر دوسرے اور آخری مرحلے میں 14 دسمبر کو الیکشن ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی 18 دسمبر کو ہوگی۔ پولنگ شام پانچ بجے تک ہوگی۔

رقبہ کے حساب سے سب سے چھوٹا علاقہ كارنج جبکہ سب بڑھ ابڈاسہ ہے. ووٹروں کی تعداد کے لحاظ سے سورت شمالی سب سے چھوٹا اور كامریج سب سے بڑا ہے۔ریاست کے کل4.35کروڑ میں سے 2.12کروڑ ووٹر پہلے مرحلے میں ووٹ کریں گے۔ ان میں1.11کروڑ مرد ہیں، پچاس فیصد ووٹر 40 سے کم عمر کے ہیں۔ پہلے مرحلے میں جن اضلاع میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں- کچھ، سریندرنگر، راج کوٹ، موربی، جام نگر، دیو بھومی-دوارکا، پوربندر، گر-سومناتھ، جونا گڑھ، امریلي، بھاؤنگر، بوٹاد (11 ضلع سوراشٹر علاقے کے) اور نرمدا، بھروچ، تاپی، سورت، نوساري، ولساڈ، ڈانگ (ساتوں جنوبی گجرات کے) شامل ہیں. دوسرے مرحلہ میں باقی 14 اضلاع کی 95 سیٹوں پر 14 دسمبر کو پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 18 دسمبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ دو مرحلے میں ہی ہو نے والے گزشتہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں سوراشٹر-کچھ اور جنوبی گجرات کی 87 سیٹوں پر 70 فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی تھی۔ دونوں مراحل کو ملا کر 71 فیصد سے زیادہ کی ریکارڈ پولنگ ہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز